اسلام آباد: سینیٹ چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پیش کی مگر چودہ اراکین نے اپنی جماعتوں سے انحراف کرتے ہوئے ووٹ حکومتی امیدوار کے حق میں دیا۔
میر حاصل بزنجو کی تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پر اراکین کے ہاتھ کھڑے کروائے گئے جس میں 64 اراکین شامل ہوئے البتہ جب ووٹنگ کا مرحلہ آیا تو 14 اراکین کے ووٹ غائب تھے۔
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنے سینیٹرز پر فروخت ہونے کا الزام عائد کیا، اس حوالے سے مختلف نام بھی زیرگردش ہیں جن میں مسلم لیگ ن کے اراکین کی تعداد زیادہ ہے، سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ 6 اراکین کے ووٹ مسترد ہوئے اور یہ بھی یاد رہے کہ جمعیت علماء اسلام ف کے 6 اراکین سینیٹر ہیں۔ نتائج سامنے آنے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی خاموشی معنی خیز ہے جبکہ ایک اور مذہبی و سیاسی تنظیم جماعت اسلامی نے ووٹنگ کے عمل سے خود کو دور رکھا اور کسی کی حمایت یا مخالفت نہ کی مگر رزلٹ آنے کے بعد سراج الحق نے حکومت پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام عائد کیا۔
الیکشن ہوگئے، میرحاصل بزنجو کے بیان پر نوٹس ہوگیا انہیں عدالت نے طلب کرلیا اور وہ اسپتال میں بھی داخل ہوگئے البتہ اب ایک اہم اور زبردست بات یہ سامنے آئی کہ پی پی کے جہاں دیگر سینیٹرز نے اپنی جماعت سے وفاداری نبھائی وہاں دو غیرمسلم اور غریب سینیٹرز بھی تھے جنہوں نے اپنے عہد کا پاس رکھا اور فروخت ہونے سے انکار کیا۔
صحرائے تھر سے سینیٹر بننے والی کرشنا کماری جنہوں نے غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کی جب فروخت ہونے کا موقع آیا تو انہوں نے اپنے ضمیر کے مطابق سودا کیا اسی طرح سینیٹر انور لعل بھی ہیں جنہوں نے صاف انکار کیا۔ دونوں سینیٹرز جو ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں نے ایمانداری سے اپنی سیاسی وابستگی نبھائی اور مثال قائم کر کے دکھائی کہ پیسہ یا مذہب کا ہی تعلق اسلام سے نہیں ہے۔
