مرشد بننے کے شوق میں‌متولی نوسرباز بن گیا، تحریر جان محمد رمضان

بانی و قائد متحدہ کراچی کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسا نام کہ ان کے چاہنے والے پیر کے لقب سے انہیں پکارتے ہیں متحدہ قائد و بانی مرشد کا درجہ رکھتے ہیں ان کے آستانہ سے ہزاروں نہیں لاکھوں متولیوں نے فیض پایا مگر جب مرشد کے در سے نکلے تو ویرانوں میں بھٹک گئے ایک ایسے ہی بھٹکے متولی کی کچھ روداد اس طرح ھے کہ اپنے مرشد کی نافرمانی کرکے اپنا آستانہ آباد کرنے نکلے۔

اس کہانی کے دونوں کرداروں کو دنیا جانتی ھے مرشد متحدہ بانی و قائد اور متولی مصطفی کمال تین دہائیوں تک متولی بن کر اپنے مرشد کی سیوا کرنے والے متولی نے جب جبرا اپنے آستانہ کا کھولا تو متولی نے مرشد کے قدموں کے نشانوں پر چلنا شروع کیا اور دنیاء کے سامنے مرشد کو برا بھلا کہنا شروع کردیا اپنے مرشد کے انداز کو اپناتے ھوئے ریلیاں کیمپ اور ملین مارچ سے حکومتی مشینری کو جام کرنے کی کرامات دکھانی چاہیں متولی تو متولی ہی رہتا ھے۔

متولی نوسرباز تو بن سکتا ھے مگر مرشد کبھی نہیں بن سکتا متولی نے کچھ عرصہ قبل کراچی پریس کلب کے سامنے اپنے مطالبات منوانے کیلئے کراماتی کیمپ لگایا جس کا اثر زائل ھونے پر کیمپ سے بغیر مطالبات منوائے بلکہ بغیر مطالبات سنوائے گھروں کو جانا پڑا متولی اس بار اپنی کرامات کرشمات دکھانے میں مکمل ناکام رھے بعدازاں ایک ماہ پہلے حکومت کو کرشماتی کرامات دکھانے کا عندیہ دے دیا گیا۔

جس کو متولی صاحبان نے ملین مارچ کا نام دیا اس میں کرامات دکھانے کے لئے کارکنان کو ٹرنسپورٹ و پیکجز دیئے گئے جس میں کارکنان عوام کو لانے میں بری طرح ناکام رھے جس پر ملین مارچ کو ملتوی کرنا مناسب نہ سمجھتے ھوئے ملین مارچ کی حکمت عملی تبدیل کرلی متولیوں نے میڈیا کو ہائی جیک کرنے کا پروگرام ترتیب دیا جس کے ثبوت مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی ملین مارچ سے پہلے مختلف چینلز کو دیئے ھوئے انٹرویوز میں موجود ہیں جب چند سو افراد کا ملین مارچ روانہ ھوا تو متولی قیادت کے چہرے مرجھائے سب دیکھ رھے تھے۔

جب مصطفی کمال آگے بڑھتے گئے تو ان کے کارکنان نے روکنا چاہا مگر پلان بوقت ضرورت بوجہ مجبوری تبدیل کرلیا گیا تھا جس پر قیادت نے خود ساختہ گرفتاریاں دینا تھیں ایک ھونہار انتہائی ذمہ دار آفیسر آصف رزاق نے مصطفی کمال کو روک کر بتایا کہ آپ قانون ہاتھ میں لے رھے ہیں آپ اپنے اس ملین مارچ کو یہیں تک رکھیں اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو ہم قانونی کاروائی کرنے میں کوئی دیر نہ لگائیں گے۔

پڑھیں: مصطفیٰ‌کمال کی ڈرامائی گرفتاری کے بعد رہائی

مصطفی کمال اور دیگر قیادت اپنے ملین مارچ کو ملین مارچ ثابت کرنے کے لئے آخری حد تک جانے کے لئے حکمت عملی بنا کر چلے تھے جس پر مصطفی کمال نے ہونہار آفیسر کی بات نہ مانتے ھوئے کارکنان کو آگے بڑھنےکا کہا تو پھر حکومتی مشینری حرکت میں آئی پھر شیلنگ ھوئی تو چند سو افراد کا ملین مارچ میں سے صرف متولی حضرات بچے جن کو آفیسر آصف رزاق نے حراست میں لے لیا چند چینلز پر صف ماتم بچھا دنیا نے دیکھا ملین مارچ ملیا میٹ ھوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ کمال کا دھرنا، کرامت کا منتظر

گرفتاریوں سے مظلوم بن گئے خدا جانے ہماری قوم کب سمجھے گی کہ متولی ہمیشہ متولی ہی رہتا ھے مرشد نہیں بنتا ایسے ہی یہ متولی ہیں جو مرشد کے آستانہ سے مریدین کو جھانسہ دینے نکلے تھے خود جھانسے میں آگئے

اپنا تبصرہ بھیجیں: