Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
سوال ہوگا کیا یہی قائد کا پاکستان ہے؟ تحریر جہاں‌تاب حسین خان | زرائع نیوز

سوال ہوگا کیا یہی قائد کا پاکستان ہے؟ تحریر جہاں‌تاب حسین خان

مشہور مصرع ہے، اُڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے! چند ہفتے قبل ہی تو وہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف منتخب ہوئے تھے ، مگر شومیئ قسمت کہ بہار کے دن تمام ہوئے۔

شاید اپوزیشن لیڈر کا گرفتار ہونا تمام منتخب ممبران  کے لیے اشارہ ہے کہ اب کسی کی خیر نہیں۔

کہتے ہیں کہ شہباز کی پرواز بہت بلند ہوتی ہے، مگر یہ کیا کہ میاں شہباز قفصِ اڈیالا پہنچ گئے۔ لگتا ہے، ایک بھائی اندر ایک بھائی باہر کی آنکھ مچولی اب چلتی رہے گی۔

کل تک شہباز، بڑے بھائی سے اڈیالہ سے ملنے جایا کرتے تھے ،  آج نواز ،شہباز سے ملنے اڈیالہ جاتے ہیں ۔ بعض حلقوں میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ جس طرح میاں نواز کی جان کو جیل میں خطرہ تھا ،اسی طرح  میاں نواز کے باہر آنے سے غالباً، میاں شہباز کی جان کو باہر خطرہ لاحق ہو گیا تھالہٰذا اندر چلے گئے کیوں کہ حرفِ عام میں اُنہیں اسٹیبلشمنٹ کا آدمی شمار کیا جاتا ہے اور اُن کے وعدہ معاف گواہ بننے کی امّیدیں موجود ہیں لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی کبھی تو چھری کے نیچے آئے گی۔

دس سال جو شخص حکومت میں رہا ہو اور اُس نے اربوں ڈالر کے بجٹ بنائے ہوں اور خرچ بھی کیے ہوں ،اُس کے  ہاتھ کیوں کر صاف ہوں گے؟ الغرض اس وقت بھائی بھائی کی بوٹیاں نوچنے کو تیّار ہے۔

معیشت تباہ حال اور عوام بدحال ہے ایسے میں ان کی کھربوں کی بد عنوانی سامنے ا ٓجائے تو عوام ان کی بوٹیاں نوچ لیں گے۔

بہر کیف گرفتاری کے اس موسم میں ہر کرپٹ شخصیت اپنے گرد گھیرا تنگ ہوتا محسوس رہا ہے، چاہے کوئی اسے منصوبہ بندی سمجھے  یا سازش لیکن در حقیقت یہ مکافاتِ عمل ہے ، مظلوموں کی آہ و بُقا ہے کہ بدعنوانوں کی زندگیاں اُن کے لئے وبال ہونے والی ہیں۔

یوں تو کسی سیاسی لیڈر کا گرفتار ہونا اُس کی مقبولیت کا باعث ہوتا ہے لیکن کوئی شخص جعل سازی یا غدّاری کا مرتکب ہوا ہو تو قانون سے پہلے عوام ہی اس کا فیصلہ کر دیتے ہیں۔

ایسا ہی حشر آجکل ملک کی اشرافیہ کا ہوتا نظرآ رہا ہے ، اُس اشرافیہ کا جسے بدمعاشیا اور مافیا کہاجانے لگا ہے جو پاکستانیوں کو محکوم رکھنا چاہتے ہیں۔

کرپشن کا یہ جال سارے ملک میں پھیلا ہوا ہے اس لئےگرفتاری کی یہ لہر سارا ملک اپنی لپیٹ میں لے کر رہے گی آج قائدِ حزبِ اختلاف گرفتار ہوا یقیناً آنے والے دنوں میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کئی اور مشکوک اراکین جیل کی سلّاخوں کے پیچھے ہونگے، چاہے وہ حزبِ اقتدار میں ہوں یا حزبِ اختلاف میں ، مقدمات سب کے تیّار ہیں۔

ایک کے بعد ایک کی باری آنے والی ہے، وہ شخصیات جو بیرونِ ملک خود کو محفوظ سمجھتی ہیں اُن پر بھی ہاتھ ڈالا جائے گا۔ ایسے افراد جو وعدہ معافی کے چلمن میں چھپے بیٹھے ہیں، وہ بھی اپنی خیر منائیں۔

سنا تھا خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے،  آج ہم نے اُس بے آواز لاٹھی کا مشاہدہ کر لیا۔ گرفتاری کا یہ موسم پنجاب سے ہوتا ہوا جلد سندھ کی جانب روانہ ہونے والا ہے۔

جو شاید نواب شاہ اور لاڑکانہ سے گزر کے کراچی میں اپنا رنگ دکھا ئے گا۔

شریف خاندان کے بعد اب دوسرے شُرفا یعنی زرداری  بمع اہل وعیال گرفتار ہونے والے ہیں ، نا اہلی ان کے سر پہ کھڑی ہے، اِنہیں بھی  کئی سنگین مقدمات کا سامنا ہے۔بہت سے چہرے بے نقاب ہونے کا امکان ہے۔

کسی نے کہا تھا کہ چھوٹی چھوٹی چالاکیاں اب نہیں چلیں گی، لیکن مزہ تو تب ہے کہ ان سے ملک و قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لے کر ان کی نظروں کے سامنے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جا ئے، اور پھر اُنہیں سزا دی جائے۔

ملک کا بچہ بچہ مقروض بنانے والے عبرت کا نشان بنا دیئے جائیں، تاکہ آئندہ کسی کی  یہ مجال نہ ہو۔ ہماری تعلیم، صحت، زراعت، صنعت ،ثقافت،سیاحت الغرض ہر شعبے میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے پیسہ چاہیئے جو ان کے پاس ہے ، پہلے ان سے لوٹی ہوئی دولت وصول کی جائے بعد میں کوئی دوسری بات کی جائے ورنہ ساری محنت بے سود و بے مصرف ہو کر رہ جائے گی اور پھر آنے والی نسلیں سوال کریں گی، کیا یہی قائد کا پاکستان ہے؟؟؟