سب کچھ کرنے کے باوجود، لاکھوں امریکی پاکستان کے مخالف، تحریر احسن وارثی

 امریکہ میں  11ستمبر 2001 کو  ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گردوں کے  حملے کے  بعد  القاعدہ  دہشت گردوں کے خلاف  امریکہ کی جانب سے  اعلان جنگ کیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ کی جنگ ایک عالمی جنگ کی سی صورت اختیار کرتی چلی گئی ۔ عراق ، افغانستان کے ساتھ ساتھ جس ملک میں اس جنگ کی شدت کو محسوس کیا گیا وہ پاکستان ہے …

پاکستان نے امریکہ کی  القاعدہ، طالبان اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں جتنا ساتھ دیا، کسی اور ملک نے اس طرح کبھی  ساتھ نہیں  دیا۔ اس کے عوض مختلف صورتوں میں پاکستان کو اس جنگ میں معاونت کرنے پر ڈالرز بھی ملتے رہے اور بہت سے یو ایس ایڈکے پروگرامز بھی شروع کیے گئے ۔

دہشت گردی کے خلاف اس عالمی جنگ میں﴿ جوکہ امریکہ نے شروع کی تھی  ﴾ اتنی بڑی تعداد میں  امریکی یا پھر دوسری  طرف موجود دہشت گرد نہیں مارے گئے جتنے  پاکستانی شہید ہوئے.،جن میں عام شہری ,پولیس , مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ، فوجی افسران و اہلکار شامل ہیں..

 بڑی تعداد میں قربانی دینے کے باوجود امریکہ کی جانب سے بار بار پاکستان سے ان  ۱ ۵  سالوں میں ڈو مور کا مطالبہ کیاجاتا رہاہے جوکہ پاکستانی قوم کی قربانیوں کی توہین ہے، امریکہ کی جانب سے بار بار ڈو مور کا مطالبہ اپنی جگہ مگر ہمارے حکمرانوں کو بھی اس پر غور کرنا چاہیے کہ  امریکہ ہمارے دہشت گردی کے خلاف اُٹھائے جانے والے اقدامات کو ناکافی کیوں قرار دیتا ہے ؟

امریکہ کی پاکستان پر تنقید کی وجہ شاید یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مختلف آپریشنز کے باوجود دہشت گردوں کے سرغنہ  یا  رہنماؤں کی پاکستان میں موجودگی، 2011  ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی امریکی سرجیکل ا سڑائیک میں ہلاکت ، 2016 میں ملا اختر منصور کی  امریکی ڈرون کے نتیجے میں ہلاکت ہونا ہو ,  یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر ان انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو پاکستان کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا تو امریکہ اس طرح بار بار ڈو مور نہ کہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان 15 سالوں میں ہماری جانب سے بھی کافی تعداد میں دہشت گردوں کا صفایا کیا گیا ہے جس سے امریکہ کو کافی مدد ملی ہے اسی لیے وہ کچھ مزید زیادہ کی توقع رکھتا ہے .

شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف 2014 میں ضرب عضب کا آغاز کیا گیا اس کے باوجود بھی ہمارے اقدام کو دنیا نے ناکافی سمجھا اور اب 2017 میں پورے ملک میں آپریشن رَدُّالفَسَاد شروع کیا گیاہے جس کا مقصد دہشت گردی کی جڑ کو اکھاڑ پھینک دینا ہے،  ابھی اس آپریشن رَدُّالفَسَاد کو ایک ماہ بھی مکمل نہ ہوا تھا کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر ڈو مور کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں۔

امریکہ میں 60 دنوں میں ساڑھے چار لاکھ لوگوں نے پاکستان کے خلاف پٹیشن دستخط کی ہیں جسے اب وائٹ ہاوس کی جانب سے بند کردیا گیا ہے، اس کے اعلاوہ امریکی  کانگریس ایوانِ نمائندگان  میں دہشت گردی کے متعلق زیلی کمیٹی   کے صدر ٹیڈ پو کی جانب سے بل پیش کیا گیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردوں کی معاونت کرنے والا ملک قرار دیا جائے.

امریکی  کانگریس میں  ۹  مارچ  ۲۰۱۸  کو پاکستان کے متعلق پیش ہونے والے بل کے حوالے سے  امریکی صدر کو 90 روز میں جواب دینا ہوگا، اور 30 روز بعد وزارت خارجہ کو ایک رپورٹ دینا ہوگی کہ پاکستان کو دہشت گردوں کا کفیل قرار دیا جائے یا نہیں , یا پھر اس کے متعلق تفصیل بتانا ہوگی کہ پاکستان کو کیوں اس زمرے میں نہیں رکھا جاسکتا……

ہمیں امریکہ کی تنقید سے زیادہ اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ آخر کونسے ایسے عوامل ہیں جنکی وجہ سے ہمیں دنیا میں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے ,

ضرورت اس بات پر بھی غور کرنے کی ہے کہ کیا اسلام آباد میں لال مسجد میں موجود مولانا عبدلعزیز , اور دیگر کالعدم جماعتوں نے کھل کر داعش کی حمایت نہیں کی , کیا مولانا عبدالعزیز کی جانب سے داعش کا جھنڈ ا   لہرانے جیسے بیانات سامنے نہیں آئے؟, کیا  کے پی کے میں سیاسی جماعت کی جانب سے  مدرسہ حقانیہ کو مالی امداد فراہم نہیں کی گئی ,؟کیا کراچی میں سخت آپریشن کے باوجود کھلے عام, بلا خوف و خطر کالعدم جماعتیں چندا اکھٹا نہیں کرتی رہیں ,

حافظ سعید کو گرفتار کیا , حفاظتی تحویل میں رکھا یا پھر نظر بند کیا اس پر پنجاب حکومت کنفیوذ  کیوں  ہے…… اگر وہ واقع مجرم ہے تو اسے عدالت میں لایا جائے اور اسے دہشت گرد قرار دینے کے لیے ثبوت فراہم کرکے سزا دلوائی جائے یا پھر اسے نظر بند یا تحویل میں رکھنے کی وجہ بتانی چاہیے ,

وقت کا تقاضا ہے کہ ملک بھر میں موجود دہشت گردوں کی نرسریاں ختم کی جائیں…… سخت ایکشن لیا جائے , آپریشن  رَدُّالفَسَادکی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انتہا پسندوں , کالعدم جماعتوں کا استثنا  ختم کر کے انکے خلاف بھرپور کاروائی ہونی چاہیے جو کہ پاکستان میں مکمل امن کے لیے انتہائی ضروری ہے ……

اپنا تبصرہ بھیجیں: