Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
غیر سودی بینکاری نظام کے نفاذ کیلئے کوشاں ہیں،گورنراسٹیٹ بینک | زرائع نیوز

غیر سودی بینکاری نظام کے نفاذ کیلئے کوشاں ہیں،گورنراسٹیٹ بینک

کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملک کی بینکاری کو شریعت کورٹ کے فیصلے کے مطابق بلا سودی بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک نے روڈ میپ بنا لیاہے اور اس پر منصوبہ بندی کے تحت کام جاری ہے۔

اس سلسلے میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سرپرستی میں کمیٹی بنائی گئی ہے جس نے غیر سودی سسٹم کو نافذ کرنے پر فوکس کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سود سے پاک بینکاری کے نفاذ کی کوششوں پر کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔

وہ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اور شرعی عدالت میں سودی نظام کے پٹیشنر سابق ایم این اے فرید احمد پراچہ کی قیادت میں آنے والے وفد سے بات چیت کر رہے تھے۔ جس نے اسٹیٹ بینک ہیڈ آفس میں ان سے ملاقات کی۔

اس موقع پر اسٹیٹ بینک کی ڈپٹی گورنر سیما کامل، ڈائریکٹر اسلامک بینکنگ غلام محمد عباسی، بینکنگ اینڈ فنانس ڈائریکٹر ارشد علی بھٹی بھی موجود تھے۔گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ سود سے پاک بینکاری پر ورکنگ گروپ بنا کر ٹیکنیکل ایشوز پر کام کر رہے ہیں، تمام چیزوں کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے ماہرین کی ضرورت ہے جنہیں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جہاں ضرورت پڑی ہم اسٹیٹ بینک کے قوائد و ضوابط میں بھی ترمیم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلا سودی بینکاری کے لیے ہمیں کوئی قانونی دشواری پیش نہیں، اللہ کی مہربانی سے اس پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس مسئلہ پر بینکوں سے رابطے میں ہیں، دوسرے ممالک کے تجربات سے فائدہ اُٹھا کر سیونگ اکاؤنٹ کو بہتر بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے شرعیہ بورڈ میں قابل اسکالرز کو شامل کر رہے ہیں۔ بلا سودی بینکاری کا نفاذ مشکل ضرورہے مگر ناممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر سودی بینکاری کے منافع میں 20فیصد سے زائد اضافہ ہو گا۔انہوں نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا غیر سودی بینکاری کے نفاذ میں مدد اورتعاون کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی کی جدو جہد قابل ِ تحسین ہے۔

افرید احمد پراچہ نے مطالبہ کیا کہ سود چونکہ اللہ اور اس کے رسول ؐ سے جنگ ہے اس لیے اسے فوری بند ہونا چاہیئے، ہماری خواہش ہے کہ شریعت کورٹ کے فیصلے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان بلا سودی بینکاری کے نفاذ کی اونر شپ قبول کرے۔ اس لیے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے وقت اسٹیٹ بینک کے قیام کا مقصد بلا سودی نظام معیشت کا قیام قرار دیاتھا اب 75سال گزر گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سودی نظام اور غیر سودی نظام ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس فیصلے کے بعد 5سودی بینکوں کی برانچوں کی اجازت غلط ہے۔ انہوں نے شرح سودمیں اضافے کو بھی غیر اسلامی قرار دیا جس کی وجہ سے افراط ِ زر میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے اسٹیٹ بینک کے گورنر سے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ بلا سود بینکاری کے نظام کو 2026تک نافذ کر نے کے لیے اسٹیٹ بینک روڈ میپ بنائے تاکہ اس کی عملی شکل سامنے آسکے۔