کراچی : کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر فراز الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں جبکہ ملک میں ڈالر کی کمی ہے ،حکومت درآمدی خام مال اور دیگر مصنوعات کی انڈسٹری لگانے میں تعاون اور سہولیات فراہم کرے تو خطیر زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو تجویز پیش کی کہ ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ، مقامی انڈسٹری کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے اور درآمدات کے متبادل پالیسی پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے 20 سالہ چارٹر آف اکنامی مرتب کریں جس پر آنے والی تمام حکومتیں بلا تعطل عملدرآمد جاری رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے باعث فارما انڈسٹری کا بیشتر خام مال جو ملک میں تیار ہوتا تھا درآمد کئے جانے لگاہے ، اس کے علاوہ ملک میں موجود وسائل کو بہتر کرکے بھی مقامی انڈسٹری کی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے۔
صدر کاٹی نے کہا کہ پاکستان جو کہ ایک زرعی ملک ہے لیکن اجناس درآمد کرتا ہے، دالیں اور دیگر درآمدی اجناس ملک میں باآسانی پیدا کی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح اسٹیل، سریا، شیٹ میٹل کی انڈسٹری کو ملک میں لگانے کیلئے چھوٹے اسٹیل ملز موجود ہیں ان کی صلاحیت میں اضافہ سے درآمدی خام مال کی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے۔
فراز الرحمان نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف درآمدات پر انحصار کم ہوگا بلکہ ملک میں انڈسٹریلائزیشن کو فروغ ملے گا اور ملازمت کے بے پناہ مواقع پیدا ہوں گے جس سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔
