کراچی: اپنی قوالیوں کے ذریعے میدان قوالی میں صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے عزیز میاں قوال کو مداحوں سے بچھڑے 19 برس بیت گئے۔
قوالی کے میدان میں ایک خلا تھا جسے 17 اپریل 1942 کو دلی میں پیدا ہونے والے شخص نے پورا کیا اور تقسیم کے بعد یہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان آکر لاہور میں رہائش پذیر ہوا۔ معروف قوال استاد عبدالوحید سے قوالی کے فن سیکھنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے عربی، فارسی اور اردو میں ایم اے کیا۔ ان کا نام عبدالعزیز تھا جب کہ ’’میاں‘‘ ان کا تکیہ کلام تھا جس کی وجہ سے وہ عزیز میاں کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان کی گائی ہوئی قوالیوں میں ’’میں شرابی‘‘، ’’تیری صورت‘‘ اور ’’اللہ ہی جانے کون بشر ہے‘‘ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی مقبول عام ہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=miEYagEUfG0
