اسلام آباد: فوج اور عدلیہ کو بدنام کرنے پر 5 سال سزا کے مجوزہ قانون پر حکمراں اتحاد (پی ڈی ایم )میں شامل راہنماﺅں کے درمیان اختلاف رائے سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انہوں نے پاکستان پینل کوڈ اور ضابطہ فوجداری میں مجوزہ ترامیم کو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا اور صحافیوں اور سیاستدانوں سمیت ہر شہری کے لیے اسی تحفظ اور سہولت کا مطالبہ کیا.
رواں ہفتے کے دوران وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مجوزہ تبدیلیاں پیش کی گئیں لیکن بعض ارکان کی مخالفت کے باعث کابینہ کی جانب سے اسے منظوری نہ مل سکی اور وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے کابینہ کمیٹی تشکیل دینے پر مجبور ہوگئے۔
وزیر توانائی خرم دستگیر نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ انہوں نے مذکورہ ترامیم کی مخالفت کی کیونکہ یہ صرف مخصوص طبقات کے لیے ہیں، یہ ترامیم متنازع ہیں اسی لیے وزیراعظم نے اس کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی.
خرم دستگیر نے بتایا کہ انہوں نے کابینہ اراکین سے کہا کہ آئین میں اس طرح کی دفعات سب کے لیے ہونی چاہیے، یہ تحفظ سیاستدانوں، صحافیوں اور بالخصوص خاتون صحافیوں کو بھی ملنا چاہیے جنہیں سوشل میڈیا پر تذلیل اور تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے.
رہنما پیپلز پارٹی فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ ان کی پارٹی نے بھی مجوزہ ترامیم کو مسترد کر دیا ہے کیونکہ اگر پارلیمنٹ سے اسے منظور کرلیا گیا اور قانون میں تبدیل کرلیا گیا تو اس کے خطرناک نتائج ہوں گے انہوں نے کہا کہ ابھی نہیں بلکہ پہلے بھی ہم نے ان ترامیم کی مخالفت کی تھی جب انہیں پہلی بار قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا تھا تاہم انہوں نے اس بات کی بہت کم امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کوئی دانشمندانہ فیصلہ کرے گی۔
