کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے شہری نعیم اللہ سمیت دیگرلاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق دائردرخواستوں پر تفتیشی افسران کی کارکردگی افسوس کا اظہارکیا،جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے کہا کہ دس دس سال حراستی مراکزکی رپورٹس تک حاصل نہیں کرپاتے،لاپتا افراد کے اہلخانہ کرب میں مبتلا ہیں دادرسی ہونی چاہئے۔
عدالت نے آئی جی سندھ اورپولیس افسران کو معاملات کا جائزہ لینے کا حکم دیا اورکہا ہے کہ لاپتا افراد کی کی عدم بازیابی سنجیدہ معاملہ ہے،آئی جی اورڈی آئی جیز ذاتی طورپراسے دیکھیں،ہفتہ کو سماعت کے موقع پروکیل درخواستگزارنے بتایا کہ نعیم اللہ 2015 سے لاپتا ہے۔
جسٹس نعمت اللہ نے تفتیشی سے استفسارکیا کہ حراستی مراکزکی رپورٹ کہاں ہے،تفتیشی افسرنے بتایا کہ خطوط لکھے ہیں تاحال رپورٹ موصول نہیں ہوئی،عدالت نے لاپتا افراد نام اورتفصیلات پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا پرنشرکرنیکا حکم بھی دیا۔
عدالت نے سیکریٹری داخلہ اورسیکرٹری دفاع سے بھی رپورٹس طلب کرلیں جبکہ کے پی کے حراستی مراکزمیں قید شہریوں کے نام اور فہرست طلب کرلی اورمتعلقہ اداروں کو 7 مارچ تک رپورٹ پیش کرنیکا حکم دیا۔
