حیدرآباد: نجی اسکول میں طالبہ کی موت کے واقعے پر پولیس کی تفتیش جاری ہے۔
اے ایس پی علینہ راجپر کی سربراہی میں تحقیقات کے لیے ٹیم بنائی گئی ہے۔
ایس ایس پی امجد شیخ کے مطابق واقعے کی ابتدائی رپورٹ درج کر لی گئی ہے۔ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ لڑکی موبائل فون استعمال نہیں کرتی تھی، گھر میں ایک ٹیبلٹ تھا وہ بھی تین دن سے خراب تھا،کیس میں اگر کوئی کرمنل عنصر سامنے آیا تو مقدمہ درج کریں گے۔
امجد شیخ نے کہا واقعے کے بعد اسکول انتظامیہ نے تین دن کی چھٹی کر دی۔2 ملازمین کا کہنا تھا کہ لڑکی سے پوچھا تھا کہ بیٹا کیا کر رہی ہو۔ٹیچر عمران نے پولیس کو بیان دیا کہ لڑکی نے جواب دینے کی بجائے چھلانگ لگا دی،ٹیچر کے مطابق بچی کو روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔
قبل ازیں بتایا گیا تھا محکمہ تعلیم کی رپورٹ میں کہا گیا کہ واقعے میں اسکول انتظامیہ کی غفلت سامنے آئی، بچی کےتیسری منزل سےکودتے وقت اساتذہ دیکھ رہے تھے، موقع پر اساتذہ چاہتے تو بچی کو گرنے سے بچایا جا سکتا تھا۔
محکمہ تعلیم سندھ کا کہنا ہے کہ نجی اسکول کی رجسٹریشن معطل کردی گئی ہے، اسکول انتظامیہ کو پرنسپل کو معطل کرنےکی ہدایت کردی گئی ہے۔ خیال رہے کہ حیدرآباد کے نجی اسکول میں طالبہ کے تیسری منزل سے گرکر جاں بحق ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ طالبہ کی چھت سے گرنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی ہے جس میں طالبہ کو تیسری منزل پر کوریڈور کی دیوار کے ساتھ کھڑا دیکھا جاسکتا ہے۔
