کراچی : نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) کے صدر فیصل معیز خان نے منی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے معیشت و صنعت کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت نے منی بجٹ کے ذریعے ٹیکسوں کی بھرمار اور بجلی و گیس نرخوں میں اضافہ واپس نہ لیا تو صنعتیں بند ہوجائیں گی جس کے نتیجے میں لاکھوں ورکرز بے روزگار ہوجائیں گے جبکہ ملکی برآمدات بھی بری طرح متاثر ہوں گی۔
فیصل معیز خان نے کہا کہ حکومت نے پہلے گیس اور بجلی کے نرخوں میں بے پناہ اضافہ کیا اور ساتھ ہی سبسڈی بتدریج ختم کرنے کا عندیہ بھی دے دیا جس سے صنعتوں کی پیداواری لاگت میں بے حد اضافہ ہوجائے گا اور صنعتکار برادری کے لیے اپنی فیکٹریاں چلانا تقریباً ناممکن ہوجائے گا جس سے یقینی طور پر برآمدی آرڈرز کی ترسیل بھی متاثر ہوگی لہٰذا حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے کاروبار وصنعت اور عوام کو اس کی بھینٹ نہ چڑھائے کیونکہ کاروبار وصنعت چلیں گی تو ملک چلے گا جبکہ عوام خوشحال ہوں گی تو ملک خوشحال ہوگا مگر افسوس کہ حکومت کے سارے اقدامات اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئی ایم ایف کی ایماء پر معیشت مخالف اقدامات کی بجائے کاروبار، صنعت اور عوام دوست پالیسیاں وضع کی جائیں اور بجلی و گیس نرخوں میں اضافہ واپس لیتے ہوئے منی بجٹ جیسے اقدامات سے گریز کیا جائے بصورت دیگر کاروبار وصنعت تباہ ہوجائیں گی اور اس کے نتیجے میں مہنگائی اور بے روزگاری کا سیلاب آجائے گا جسے حکومت کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔
