اسلام آباد: رکن قومی اسمبلی مسرت احمد زیب نے اردو اخبار ‘امت’ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ملالہ یوسفزئی پر حملے کو پہلے سے ‘طے شدہ’ قرار دے دیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والی رکن قومی اسمبلی مسرت احمد زیب نے ایک انٹرویو کے دوران الزام عائد کیا کہ ‘ ملالہ پر حملہ اسکرپٹڈ تھا’۔
واضح رہے کہ نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر 2012 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے سوات میں حملہ کیا گیا، جس کے بعد سے وہ بیرون ملک مقیم ہیں اور اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی مسرت احمد زیب نے بعدازاں اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا، ‘ملالہ کو سر میں گولی ماری گئی، لیکن سوات میں ہونے والے سی ٹی اسکین کے دوران کوئی گولی نہیں پائی گئی، لیکن بعد میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) پشاور میں ان کے سر میں ایک گولی پائی گئی’.
@khattak She was shot in the head but no bullet was found in CT scan in #Swat but yes then the bullet got stuck in her head in #CHM Peshawer
— mussarat ahmadzeb (@MussartAhmadzeb) May 19, 2017
The medics who did CT scan along d doctor who examined all were awarded plots by Gov https://t.co/SsoYRFBFU7
— mussarat ahmadzeb (@MussartAhmadzeb) May 19, 2017
مسرت احمد زیب نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے ملالہ کی کہانی ‘گھڑنے’ والے طبی عملے کو بھی سہولیات فراہم کیں، ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کے ساتھ ملالہ کا سی ٹی اسکین کرنے والے طبی عملے کو بھی حکومت کی جانب سے پلاٹس فراہم کیے گئے۔
Malala could never read or write the time she supposedly wrote Gul Makai story 4 #BBC ? https://t.co/ykYeVYghUI
— mussarat ahmadzeb (@MussartAhmadzeb) May 19, 2017
بعدازاں اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے انھوں نے اپنے ایک اور پیغام میں الزام عائد کیا کہ جب ملالہ نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) اردو کے لیے ‘گل مکئی’ کے نام سے ڈائری تحریر کی تو اُس وقت وہ لکھنا یا پڑھنا نہیں جانتی تھیں۔
واضح رہے کہ ملالہ یوسفزئی کو اُس وقت بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی جب انہوں نے ‘گل مکئی’ کے قلمی نام سے برطانوی نشریاتی ادارے کی اردو ویب سائٹ پر جنگ بیتی کو اپنے انداز میں پیش کرنا شروع کیا، بعد ازاں ملالہ یوسفزئی کو اسی ویب پوسٹس پر نہ صرف شہرت ملی بلکہ کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔
تحریک انصاف کا ردعمل
پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان شفقت محمود نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ پارٹی 2014 میں مسرت احمد زیب سے لاتعلقی اختیار کرچکی ہے۔
شفقت محمود نے بتایا کہ 2014 کے اسلام آباد دھرنے کے دوران ارکان قومی اسمبلی مسرت احمد زیب، گلزار احمد اور سراج محمد نے پارٹی قواعد کی خلاف ورزی کی تھی۔
انھوں نے مزید بتایا، ‘پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا، لیکن ان ارکان نے پارٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس میں شرکت کی’.
پی ٹی آئی ترجمان نےواضح کیا کہ پارٹی کا مسرت احمد زیب اور ان کے کسی بھی بیان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر مسرت احمد زیب کی پارٹی اب بھی پاکستان تحریک انصاف درج ہے۔