کابل: افغانستان کی طالبان انتظامیہ ماضی قریب میں غیرملکی فوجوں کے زیراستعمال اڈوں کوکاروبار کے لیے خصوصی اقتصادی زون میں تبدیل کرنے کے منصوبے پرعمل درآمد کاارادہ رکھتی ہے۔
اقتصادی امورکے قائم مقام نائب وزیراعظم ملّا عبدالغنی برادرنے بتایا کہ تفصیلی غوروخوض کے بعدیہ فیصلہ کیا گیا کہ وزارت صنعت و تجارت کو غیر ملکی افواج کے باقی ماندہ فوجی اڈوں کو خصوصی اقتصادی زون میں تبدیل کرنے کے منصوبے کو آگے بڑھانا چاہیے اور اس ارادے سے بتدریج ان کا کنٹرول سنبھالنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دارالحکومت کابل اور شمالی صوبہ بلخ میں سابق غیرملکی فوجی اڈوں کو تبدیل کرنے کے لیے ایک پائلٹ منصوبہ شروع کیا جائے گا۔واضح رہے کہ افغانستان کے قائم مقام وزیرتجارت نے دسمبر میں برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا تھا کہ ان کی وزارت سابق امریکی اڈوں کے منصوبے پرکام کر رہی ہے اور اسے قائم مقام نائب وزیر اعظم ملّاعبدالغنی برادر کی سربراہی میں اقتصادی کمیٹی اور کابینہ کومنظوری کے لیے پیش کرے گی۔
طالبان نے کہا ہے کہ وہ تجارت اورسرمایہ کاری کے ذریعے معاشی خودکفالت کوفروغ دینے پر توجہ مرکوزکررہے ہیں۔ کچھ غیرملکی سرمایہ کاروں نے سلسلہ وارحملوں پرتشویش کا اظہار کیا ہے،جن میں کابل میں چینی تاجروں کے زیراستعمال ہوٹل پر حملہ بھی شامل ہے۔اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔تاہم عالمی بینک نے یہ بھی نوٹ کیاہے کہ افغانستان کی برآمدات میں اضافہ ہوااورطالبان انتظامیہ 2022 میں محصولات کوبڑی حد تک مستحکم رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔
