اسلام آباد کی نجی یونیورسٹی کے امتحان میں بہن بھائی کے جنسی رشتے سے متعلق سوال پر ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا۔
اسلام آباد میں قائم کامسیٹس یونیورسٹی میں بی ای ای کے انگریزی کے پرچے میں بہن بھائی کے جنسی تعلقات کے حوالے سے نامناسب سوال کیا گیا۔
اس سوال پر طلبا کو مضمون لکھنے کا بھی کہا گیا جس کے کل نمبر 15 تھے۔
سوال کیا تھا؟
طلبا سے سوال پوچھا گیا کہ ‘جولی اور مارک بہن بھائی تھے، جو گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے ساحل پر گئے اور ایک کیبن میں رک گئے، دونوں نے لطف اندوز ہونے کیلیے جسمانی تعلقات قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس بات کو ہمیشہ راز رکھنے کے ساتھ آئندہ یہ عمل نہ دہرانے کا بھی فیصلہ کیا’۔
‘جولی پہلے ہی مائع حمل کی گولیاں استعمال کررہی تھی جبکہ مارک نے حفاظتی اقدامات کے لیے کونڈوم استعمال کیا’۔
سوال میں طلبا سے پوچھا گیا کہ آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا ان کا محبت کرنا ٹھیک تھا؟
جواب میں وجہ بیان کریں اور اس حوالے سے آپ کے ذہن میں پانچ مثالیں یا ذاتی تجربات بھی شیئر کریں۔
یونیورسٹی کا موقف
دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے پرچے میں نازیبا سوال آنے سے متعلق تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تحقیقات کیلیے کمیٹی قائم کردی گئی جبکہ پروفیسر کو معطل کردیا گیا ہے۔
ذرائع نیوز کے تحقیق کرنے پر یہ معلوم ہوا کہ یہ پرچہ جنوری کی 19 تاریخ کو ہوا جس کے بعد انتظامیہ نے دو فروری کو وزیٹنگ فیکلٹی ٹیچر کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔
انتظامیہ نے تصدیق کی کہ ٹیچر کو تاحال عہدے پر بحال نہیں کیا گیا جبکہ تحقیقات میں بھی وہ ٹیم کو مطمئن نہیں کرسکا اور نہ سوال شامل کرنے کیوجہ بیان کی۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں اس سے پہلے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ بی اے کے انگریزی پرچے میں بھی بہن بھائی کے مقدس رشتے سے متعلق غیراخلاقی سوال آچکا ہے۔
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
سوشل میڈیا صارفین نے پرچہ سامنے آنے کے بعد شدید ردعمل دیا اور سوال کو شرمناک بھی قرار دیا۔
کچھ صارفین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے سوالات کو پیش کر کے ہمارے خاندانی نظام کو تباہ اور مقدس رشتوں کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ایک صارف نے ٹیچر کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر ان کی پرورش پر سوال اٹھایا اور گھٹیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بتائیں ایسا کتنی بار کر کے ہیں۔


