سال 18 – 2017 کا بجٹ پیش

وفاقی حکومت کا مالی سال 18 – 2017 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جارہا ہے، قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ 2013میں جب مسلم لیگ ن نے حکومت سنبھالی تو ملک تباہی کے دہانے پر تھا لیکن حکومت کی بہترین پالیسیوں کی بدولت ملک نے کافی ترقی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسی بھی منتخب شدہ جمہوری وزیر اعظم کی سربراہی میں وزیر خزانہ پانچواں مسلسل بجٹ پیش کر رہا ہو۔ معشیت پچھلے 10 سال میں بلند ترین سطح پر ہے جبکہ رز مبادلہ کے ذخائر بھی مطمئن حد تک بڑھ چکے ہیں جو 4 ماہ کی درآمدات کیلئے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 81 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ مالیاتی خسارہ چار اعشاریہ دو فیصد سے کم ہو کر نصف رہ گیا ہے۔ مشینری کی در آمد میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور صنعتوں کیلئے لوڈ شیڈنگ ختم ، گھریلو اور تجارتی صارفین کیلئے اگلے سال ختم ہو جائے گی۔

 وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ آج پاکستان تیزترین ترقی کی راہ پرگامزن ہے، کسی بھی حکومت کے لیے ترقی کی خاطر قرضہ لینا برا نہیں ہے ۔

آئندہ سال لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا، لوڈشیڈنگ ختم کرنےکیلئے404ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں، صنعتوں میں لوڈشیڈنگ مکمل طورپرختم ہوچکی ہے۔

اس سال جی ڈی پی کی شرح 5.26رہی، مشینری کی صنعت میں40فیصداضافہ ہوا، زراعت کےشعبےمیں3.46اضافہ ہوا، پاکستان2030 میں جی ٹوئنٹی میں شامل ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ 2013 میں پاکستان دیوالیہ کے قریب تھا ،عالمی سطح پرمعیشت کوغیرمستحکم قراردیاگیاتھا ، گزشتہ4سال میں ٹیکس محصولات میں81 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح گزشتہ10سال کےمقابلےمیں زیادہ ہے،زرعی شعبےمیں ترقی کی رفتار3.5فیصد رہی، تجارتی خسارہ 8.2سےکم ہوکر4.2رہ گیا ہے۔

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈاربجٹ پیش کررہےہیں،وفاقی وزیرخزانہ کی تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین کاشور جاری ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: