سانحہ پکا قلعہ، زہر ملا پانی لوگوں نے نہ پیا تو گولیاں‌ ماری گئیں

پاکستان کی 67سالہ تاریخ میں کئی سانحات نے جنم لیا۔ ان میں سے کچھ سانحات قدرتی تھے ، کچھ سرکاری، کچھ دہشت گردی اور کچھ پیدا کردہ۔ تاریخ میں ہونے والے پے درپے سانحات میں سے کچھ ایسے بڑے سانحات ہیں ۔ جن پر کوئی لب کشائی کرنے کو تیار نہیں بلکہ ان سانحات پر بات کرنے کو نا صرف ناگوار سمجھتا ہے بلکہ اگر کوئی ان سانحات پر گفتگو کرے تو اُسے سرٹیفیکٹ دینے میں دیر نہیں کرتا۔ اسکے برعکس کچھ سانحات ایسے ہیں ۔ جن پر بے جا شور کیا جاتا ہے ۔اگر باریک بینی اور تجزیہ نگار کی حیثیت سے جائزہ لیا جائے تو یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اُن سانحات کو مسخ کرنے اور چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ جو مکمل حکمت عملی اورمکمل منصوبہ بندی کے تحت کئے گئے ہوں۔

آج کی نوجوان نسل ، طالب علموں کو ان سانحات سے جان بوجھ کر ان سارے سانحات سے لاعلم رکھا گیا ہے ۔ اُس پر سونے پر سہاگا یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سارے لوگ شارٹ ٹرم میموری یعنی ( یاداشت کی کمزوری،بھولنے کی عادات) کے ساتھ معاشرے میں رہ رہے ہیں ۔ آج کا (حال) دن جب گزر کے کل (ماضی) ہو جائے گا تو ہم اپنے ماضی سے سبق سیکھنے کے بجائے اسکو بھولنے پر ترجیح دینگے ۔ کیونکہ یہی مردہ قوموں کی نشانی ہے۔

آج کالم لکھنے کا مقصد سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد ہے ۔1990 ؁ء کی دہائی میں ہونے والا ایسا سانحہ جس میں ظلم و بربریت کی انتہاء کر دی گئی۔ اس سانحے کے پیش آنے کے محرکات کچھ اور نہیں بلکہ بانیان پاکستان کااتحاد تھا ۔

سانحہ کچھ اس طرح پیش آیا کہ 20مئی 1990کو صبح فجر کے وقت مساجد سے اعلان ہوا کہ قلعہ میں لگی پانی کی ٹنکی جو قلعہ کے رہائشیوں کے استعمال میں تھی اس میں زہر ملا دیا گیا ہے ۔ اسکے بعد کچھ خاندانوں نے اپنے بال بچوں سمیت کراچی اور حیدرآباد کے دوسرے علاقوں کا رخ کیا ۔ جبکہ اکثر خاندان قلعے میں ہی آباد رہے ۔ پانی کو مستقل تین دن تک ضائع کیا گیا اور عوام کی طرف سے اس سازش پر حکومت سندھ کو توجہ دلانے کے لئے احتجاج کیا گیا ۔ جسکے بعد اس علاقے میں حالات کچھ کشیدہ سے ہوگئے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قلعے میں اپنی پوزیشنیں سنبھال لیں۔ لیکن پھر بھی 25 مئی کو بعد از مغرب اچانک قلعے کے ار گرد چند مسلح افراد کا گشت شروع ہوگیا ۔ جسکو ابتدائی طور پر وہاں کی عوام نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فلیگ مارچ سمجھا ۔ تاہم 26مئی 1990کی درمیانی شب وہی دہشت گرد جدید اسلحے اور مسلح گاڑیوں کے ساتھ قلعے میں داخل ہوئے اوراونچے مقامات پر پوزیشنیں سنبھال لیں۔

مسلح دہشت گردوں کے باقی ساتھی قلعے میں باآسانی گھس گئے اور قلعے میں رہنے والوں کے گھروں میں لوٹ مار شروع کر دی۔ لوٹ مار سے فارغ ہوکر پکے قلعے میں رہنے والی عوام ، نوجوانوں ، بزرگوں ،بچوں اور خواتین پر اندھا دھند فائرنگ کر دی ۔ جس سے جائے وقوعہ پر سینکڑوں افراد جانبحق ہوئے ۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی ۔ خواتین کی عصمت دری کی گئی ۔ والدین کے سامنے انکے نوجوانوں کو تڑپا تڑپا کر مار دیا گیا ۔ یہ کاروائی 4گھنٹے سے زیادہ وقت تک کی گئی ۔ مگر کوئی قانون حرکت میں نہیں آیا۔

حالات کے پیش نظر علی الصبح کرفیو کا نفاذ کر دیا گیا ۔جانبحق افراد کی تدفین کر دی گئی ۔ مگر کرفیو پھر بھی برقرار رہا ۔ پانی کی قلت سے دوچار عوام کے صبر کا پیمانہ جب لبریز ہوا جب انکے بچوں کی غذائی اجناس کی قلت پیدا ہوگئی ۔

ان حالات کے پیش نظر امن مانگنے کی خاطر خواتین کی بڑی تعداد ہاتھوں میں قرآن اٹھائے پر امن مظاہرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اظہار یکجہتی کے لئے نکلی ۔

مگر اسکے جواب میں اُن پر ربڑ کی نہیں اصلی گولیاں چلائی گئیں۔ خدا کا واسطہ دیتی یہ پرامن نیہتی خواتین کا لہو بھی پکے قلعے کی زمین میں جذب ہوگیا۔

کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی ۔دوسری طرف وقت کی ستم ظریفی آج بھی جاری ہے۔ اس سانحے کو گزرے آج 24سال کا عرصہ گزر گیا ۔ وہی عدالتیں بھی موجود ہیں مگر کسی محترم جج اور چیف جسٹس نے نوٹس تو دور کی بات اس کیس کی دوبارہ سماعت تک نہیں کیا۔ نہ کوئی جمہوریت کا چیمپئین اس پر بات کرنا پسند کرنا ہے اور نہ ہی نام نہاد فحافت کے علمبردرا میں سے کوئی اس پر کوئی آرٹیکل لکھتا ہے اور تو اور میڈیا کے اداروں کی جانب سے آج تک پکا قلعہ کے لواحقین کے لئے کوئی پروگرام تک نشر نہیں کیا گیا ۔ بلکہ خاص طور پر ایسے موضوعات کو تنازعہ کا نام دے کر نظر انداز کردیتے ہیں۔

اپنے ووٹ بینک کے لئے سندھ اور حیدر آباد سے نام نہاد یکجہتی دکھانے والی سیاسی جماعتیں بھی بس اپنے مفادات اور سیاست چمکانے کی خاطرصرف دعوی کی حد تک تو سندھ اور حیدرآباد کو اپنا کہتی ہیں ۔ مگر بغض رکھنے والے قائدین آج تک ان سانحات پر مذمتی پیغامات یا تعزیتی تقاریب منعقد کرنا تو دور کی بات انکو خاص مہاجروں پر ہونے والے ظلم و بربریت کے سانحات کی تاریخیں تک یاد نہیں۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کو میڈیا میں زندہ رکھنے والے صحافی دوستوں ایک نظر اور ایک پروگرام ایسے سانحات پر بھی کردیں ۔ تاکہ کم ازکم ایسےافراد کا احساس محرومی مٹایا جاسکے ۔ پاکستان کی خاطر اس دوہرے معیار کو ختم کریں ۔

قارئین سے آخر میں اتنی سی گزارش کہ آئیں ہاتھ اٹھائیں اور سانحہ پکا قلعہ کے شہداء کے لئے فاتحہ اور درجات کی بلندی کی دعا کریں ۔اللہ تعالی سانحہ پکا قلعہ میں ظلم و بربریت کا نشانہ بننے والے افراد کو جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے اور لواحقین کو انصاف دلوائے ۔

آمین ثم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں: