کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے بانی ایم کیو ایم کی تقریر پر پابندی کیخلاف درخواست گزار کے مہلت طلب کرنے پر سماعت ملتوی کردی۔
چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو بانی ایم کیو ایم کی تقریر پر پابندی کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس احمد علی شیخ نے استفسار کیا کہ آپ عدالت کیوں آئے، عدالت سے کیا چاہتے ہیں؟ درخواستگزار آفتاب الدین بقائی نے کہا کہ میں بانی ایم کیو ایم کے لیے انصاف چاہتا ہوں۔ ان سے جو غلطی ہوئی اس کی معافی وہ مانگ چکے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کس فیصلے کیخلاف انصاف چاہتے ہیں وہ پیش کریں۔ درخواستگزار نے کہا کہ مجھے اونچا سنائی دیتا ہے، میں عدالت کی آواز نہیں سن سکتا۔ عدالت کا سوال کمرہ عدالت میں موجود ڈی اے جی نے درخواست گزار کو اونچی آواز میں بتایا۔
درخواستگزار نے کہا کہ میرے پاس ابھی کوئی دستاویز نہیں ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تو ہم کیسے فیصلہ کریں کہ آپ کو جس فیصلے سے شکایت ہے وہ قانونی ہے یا غیر قانونی؟
درخواستگزر نے کہا کہ مجھے مہلت دی جائے تو مہربانی ہوگی، آئندہ سماعت پر متعلقہ دستاویزات فراہم کر دونگا۔
عدالت نے سماعت 3 ہفتے کے لئے ملتوی کردی۔
درخواست گزار آفتاب الدین بقائی نے دائر درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ بیرون ملک ملازمت کے بعد وطن واپس پہنچا تو پتہ چلا بانی ایم کیو ایم کی تقریر پر پابندی ہے۔
بانی ایم کیو ایم نے ہمشہ غریب اور متوسطہ طبقے کی بات کی ہے۔ بانی ایم کیو ایم جمہوریت، حقیقت پسندی، برابری اور انصاف کے حامی ہیں۔
بانی ایم کیو ایم نے مہاجروں کے حق کی بات ہے۔ بانی ایم کیو ایم نے مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کیا۔ بانی ایم کیو ایم نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے فلاحی کام بھی کیئے ہیں۔ بانی کیو ایم پر پاکستان اور بیرون ملک اشتعال انگیز تقاریر کا ایک بھی مقدمہ ثابت نہیں ہوا ہے۔
بانی ایم کیو ایم اپنی 22 اگست 2016 کی تقریر پر معافی مانگ چکے ہیں۔ استدعا ہے کہ بانی ایم کیو ایم کی تقریر پر پابندی ختم کرنے کا حکم دیا جائے۔
