عالمی مالیاتی فنڈز کی شرط پر پاکستان نے ڈالر کی قیمت کو مارکیٹ میں آزاد چھوڑ دیا جس کے باعث قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ شرح سود کو بھی بڑھا کر 20 فیصد کردیا گیا اور اس کے سبب سونے کی قیمت میں بھی ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ ہوا۔
آج سونے کی قیمت میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد سونے کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر آگئی ہے۔
مارکیٹ رپورٹس کے مطابق عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت ایک ڈالر کی کمی سے 1836 ڈالر کی سطح پر آگئی تاہم ملکی سطح پر سونے کی فی تولہ قیمت میں نو ہزار 400 روپے کا بہت بڑا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد فی تولہ قیمت دو لاکھ چھ ہزار 500 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی۔
ڈالر ریٹ
انٹربینک میں ڈالر تاریخ کی بلند سطح پر پہنچ گیا اور روپے کے مقابلے میں اس کی قدر میں مزید 18.19 روپے کا اضافہ ہوگیا۔
انٹربینک مارکیٹ میں بلند پرواز کرتے ہوئے ڈالر کی قدر میں 18.19 روپے کا اضافہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں اس کی قیمت 284.30 روپے ہوگئی۔
اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر یک دم 16 روپے کے اضافے سے 290 روپے کی سطح پر آگئی۔
زرمبادلہ کی مارکیٹوں میں ایکس چینج ریٹ حقیقی بنیادوں پر مارکیٹ فورسز پر چھوڑنے کی سخت ہدایات اور بیشتر مطلوبہ شرائط پوری ہونے کے باوجود آئی ایم ایف کی نت نئی شرائط سے رواں ہفتے بھی اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہونے کی خبروں سے ڈالر کی پرواز جاری ہے۔
شرح سود
اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے شرح سود میں 3 فیصد اضافہ کردیا۔ اس 3 فیصد اضافے سے شرح سود ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 20 فیصد پر آگئی۔
