کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مرکز بہادر آباد سے متصل پارک میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ایک اہم اور امتحان کا دن ہے ہم خدا کے شکر گزار ہیں جس نے ہمیں اس قابل سمجھا اور ہمیں شہداء اسیر لاپتہ ساتھیوں کی امانت واپس ملی ہے،یہ پراپرٹی شہداء اسیر لاپتہ اور شہید ساتھیو کیلئے استعمال ہوگی۔
اس موقع پر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی ڈاکٹر فاروق ستار،مصطفی کمال،نسرین جلیل ڈپٹی کنوینرز و اراکین رابطہ کمیٹی بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ اس فیصلہ کے بعد اب عالمی طور پر بھی طے ہوگیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان ہی ایم کیو ایم ہے اس کی کوئی برانچ اور دھڑا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پراپرٹی عوام کی پراپرٹی ہے اسکو ہم اللہ کی رضا اور عوام کی خدمت کیلئے استعمال کرینگے,ہم اس پیسے کو شہداء اور لاپتہ ساتھیوں کی فیملی، اسیروں ساتھیوں کے کیسز،صحت،تعلیم اورخاص طور پر خواتین کو ہنر سکھانے کیلئے استعمال کریں گے جبکہ اس کا ایک حصہ شہید انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق کی فیملی کو دیا جائیگا۔
انکا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی اعلی قیادت کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ اس پیسے کو نہ تو ہم ذاتی اور نہ ہی سیاسی مفاد کیلئے استعمال کریں گے، اللہ نے ہمیں جو کامیابی دینا شروع کی ہے وہ نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان کیلئے بھی امید کی کرن ہے۔
لندن سے ایم کیو ایم پاکستان کے وکیل بیرسٹر نظر محمد نے ٹیلی فون کے ذریعے فیصلے کی تفصیل سے آگاہ کیا اور ایم کیو ایم پاکستان کو کیس کی کامیابی پر مبارک باد دی۔
اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آج کا فیصلہ 23 اگست 2016 کے فیصلے کی توسیق ہے ایم کیو ایم پاکستان کی چھ پراپرٹی ہیں جبکہ ایک پراپرٹی سیل ہوگئی ہے اور یہ سب ایم کیو ایم کی ملکیت ہیں۔
