کراچی: گور نرسندھ کامران خان ٹیسوری نے اسلام آباد میں سینیٹ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر منعقدہ خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بہت ساری باتیں اور تقاریر کرتے ہیں جو بہت ہی خوبصورت اور حسین ہوتی ہیں، لیکن ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم ان پر عمل درآمد کروا پاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ آج پاکستان جن معاشی حالات سے گذر رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جس معاشرتی حالات کا سامنا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے ہمارے ساتھ ترقی کا سفر شروع کیا تھا، کیا وجہ ہے اور کونسے ایسے عوامل ہیں کہ وہ تو بہت آگے نکل گئے ہیں اور پاکستان وہیں کھڑا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں ملک کے حالات کیسے ہیں، اس ملک کے نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے باوجود بھی روزگار کے مواقع ڈھونڈ رہا ہے، اگر ایک قابل نوجوان کو اس ملک میں کچھ نہیں ملے گا تو وہ ملک سے باہر چلا جائے گا، ایک معیشت دان اور بزنس مین کو اگر ملک میں اچھے مواقع نہیں ملیں گے تو وہ بھی کسی دوسرے ملک میں جاکر اپنا کاروبار کرے گا اور ان 75 سالوں میں یہی ہورہا ہے۔ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی وسائل سے مالا مال کیاہے، ساٹھ فی صد آبادی نواجون پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کی ٹھیک کرنے میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ ٹھیک تو ہمیں اپنے لوگوں کے حالات کو کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک اچھا ڈاکٹر ، انجینئر، سیاست دان سب کچھ بن گئے لیکن ہم میں ایک اچھا انسان بننے کی کمی ہے ۔ گورنر سندھ نے کہا کہ میں جب سے ان منصب پر بیٹھایاہے، ایک چیز کا میں نے تعین کیا ہے کہ کسی بھی کام کو کرنے کے لئے اختیار کی نہیں کردار ، ارادے اور نیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سے جو غلطیاں ہوئی ہیں ان کو اجاگر نہیں کیا جانا چاہئے، میں میڈیا سے گزارش کروں گا کہ چھوٹی چھوٹی خبروں کو فلم یا ڈرامہ نہ بنائےے، کیونکہ پوری دنیا کے ممالک یہ سب دیکھ رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے ملک کا امیج خراب ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہم سب یہ عہد کریں کہ جس کے پاس جو بھی اختیار ہے اس کا استعمال اپنی ذات کے بجائے اپنے عوام اور اپنے ملک کی خاطر کریں گے۔
دریں اثناء گور نرسندھ کامران خان ٹیسوری نے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی سے ملاقات کی،چیئرمین سینٹ نے گور نرسندھ کو سینیٹ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر منعقدہ خصوصی اجلاس کا سووینئر پیش کیا۔
