کراچی میں‌ اب مرنا بھی آسان نہیں، قبر اور کفن کے لیے ہزاروں‌ روپے درکار

کراچی: شہر قائد میں اب مرنا بھی آسان نہیں رہا، قبر، کفن اور تدفین کے دیگر اخراجات تقریبا پچاس ہزار سے اوپر لگنے لگے۔

گزشتہ روز محلے میں ایک بزرگ خاتون کا انتقال ہوا قبر کے حصول کے لیئے قریبی تین مختلف قبرستانوں سے رابطہ کیا گیا کہیں ایک لاکھ اور کہیں 80 ہزار روپے مانگے گئے جس کے بعد ایک اور قبرستان اعظم بستی کے قبرستان رابطہ کیا گیا جہاں پر قبرستان کے فل ہوجانے کا بتایا گیا۔

تھک ہارنے کے بعد بالآخر جو حل نکالا گیا وہ یہ تھا کہ ان ہی مرحومہ بزرگ خاتون کے شوہر جو طویل عرصہ قبل انتقال فرما چکے تھے اور جو اسی اعظم بستی کے قبرستان میں ہی دفن تھے ان ہی کی قبر کو پلین کر کے اور اس قبر کے عین اوپر مرحومہ خاتون کے لیے دوسری قبر بنائی گئی اور ان خاتون کے شوہر کے نام کا کتبہ بھی ہٹا دیا گیا اور یوں مرحومہ خاتون کو اپنے شوہر کی قبر کے عین اوپر قبر کی جگہ ملی مگر یہ قبر بھی مفت میں نہیں ملی علاقہ مکینوں کے مطابق یہ قبر بھی چالیس ہزار روپے کی ادائیگی کے بعد ہی مل سکی ہے۔

یہ صورتحال جان کر دلی صدمہ ہوا کیوں کہ وہ مرحومہ خاتون ایک متوسط طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اور قبر کی ادائیگی کے لیئے ایک لاکھ روپے کا خرچہ برداشت کرنا ان کے لواحقین کے لیئے ممکن نہیں تھا۔ اس افسوسناک صورتحال پر میرے پاس پاکستان میں رائج نام نہاد جمہوریت اور نام نہاد مطلق العنان لیڈروں اور سیاسی جماعتوں پر کف افسوس ملنے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

پاکستان ان نام نہاد جماعتوں کے مختلف رنگوں کے جھنڈوں تلے باقاعدہ ایک مافیا نگر بن چکا ہے یہاں ایک پتھر بھی اٹھاؤ تو وہاں سے بھی ایک مافیا ابھرتی ہوئی نکلے گی معاشرے میں ہر جگہ ہر شعبے میں مافیاز کی بدمعاشی اور بادشاہت قائم ہے جن کا دین اور ایمان صرف اور صرف دولت کمانا اور طاقت کا حصول ہے چاہے اس کے لیئے انہیں کچھ بھی کرنا پڑے اور کسی کا بھی خون کرنا یا گلا کاٹنا پڑے کہیں بھی کسی بھی شعبے میں ارباب اختیار و اقتدار کی جانب سے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے کوئی پلانگ اور دیکھ بھال نہیں ہے۔

اس ملک میں ہر سسٹم اور ہر معاملہ یہاں سب کچھ اللہ واسطے ہی چل رہا ہے، ارباب اختیار و اقتدار اور نام نہاد لیڈرز کا انگ انگ صرف اور صرف تعیشات کے حصول میں وقف ہے ان مطلق العنان لیڈروں کے دن و رات بے چارے معصوم اور مظلوم عوام پر وی آئی پی اور ہٹو بچو کلچر کی بھرم بازیاں ہی جھاڑتے گزر جاتے ہیں انہیں نہیں ہوش کہ آخر سیاسی نعرے لگانے کے بعد ان پر عوامی خدمت کرنے کی بھی ذمہ داریاں عائد ہو جاتی ہیں ملک و قوم کو ایک بہتر اور قابل عمل نظام اور انہیں بنیادی سہولیات دینے جیسی ذمہ داریاں ان کے ذمہ ہوتی ہیں مگر ہمیشہ کی طرح ہر جگہ ہر معاملے میں انجام وہی ڈھاک کے تین پات۔

ب تو بس دیواروں میں ٹکریں مارنے کے سوا عوام کے پاس کوئی آپشن ہی نہیں بچا ہے لیکن ایک بات ہے عوام اگر یہ ٹکریں دیواروں کے بجائے وطن عزیز میں انتہائی بہتات میں پائی جانے والی ان سیاسی خلائی مخلوقات کو متحد ہو کر ماریں تو عوام کے ہر غم و الم اور مشکلات کا حل نکل سکتا ہے ۔۔ تو پھر اے فرد اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ الہی کیا کرتا ہے

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں ۔۔۔

تحریر، شہزاد علی شاہ

اپنا تبصرہ بھیجیں: