ساتھی اسحاق ایڈوکیٹ پر سرکاری حراست میں تشدد کا انکشاف

کراچی: ایم کیو ایم لندن رابطہ کمیٹی کے ممبر اور سندھ ہائی کورٹ کے سنیئر وکیل ساتھی اسحاق کو تین روز لاپتہ رکھنے کے بعد رہا کردیاگیا، دورانِ حراست اُن پر مبینہ طور پر تشدد کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

ایم کیو ایم لندن رابطہ کمیٹی کے رکن ساتھی اسحاق کو چار روز قبل سندھ ہائی کورٹ کے قریب اوٹی ٹاور میں واقع اُن کے دفتر سے سادہ لباس اہلکاروں نے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا۔

اگلے ہی روز  ساتھی اسحاق کی اہلیہ نے سندھ ہائی کورٹ میں بازیابی کی درخواست دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سرکاری ادارے کے اہلکار اُن کے اہل خانہ کو حراساں کررہے ہیں اور  چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ساتھی اسحاق کو بغیر کسی مقدمے کے گرفتار کیا گیا۔

عدالت نے اُن کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے ڈی جی رینجرز سندھ ، آئی جی سندھ اور محکمہ داخلہ سندھ کو دو روز کے اندر جواب داخل کروانے کا حکم دیا تھا تاہم سماعت کے اگلے ہی روزساتھی اسحاق کو رہا کردیا گیا۔

ساتھی اسحاق کے اہل خانہ کے مطابق دوران حراست اُن پر تشدد کیا گیا ہے جس کے باعث اُن کے پیروں اور جسم پر سوجن کے نشانات واضح موجود ہیں، دوسری جانب جامعہ کراچی کے رجسٹرار عارف حیدر کو بھی چار روز حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔

واضح رہے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے  ساتھی اسحاق اور عارف حیدر کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار بھی کیا تھا، جامعہ کراچی کی انتظامیہ کے عراقی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ “عارف حیدر کی گرفتاری کس نے اور کیوں کی کوئی علم نہیں کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سے لاعلمی ظاہر کرچکے ہیں”۔

ساتھی اسحاق کے اہل خانہ نے تشدد کے باعث انہیں طبیب کو دکھایا جہاں ڈاکٹرز نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ بھی دیا ہے، علاوہ ازیں متحدہ لندن کے خلاف ہونے والے کریک ڈاؤن میں گرفتار ہونے والے 40 سے زائد کارکنان کو تاحال کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں