توہین مذہب کا ملزم، ناکافی شواہد پر سپریم کورٹ‌ سے بری

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ناکافی شواہد کی بنا پر توہین مذہب کے ملزم کو بری کرنے کا حکم جاری کردیا۔

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

ملزم کی وکیل عائشہ تسنیم نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل پر الزام تھا کہ اس نے قرآن مجید کی مبینہ طور پر بے حرمتی کی اس کے اورق کا آگ لگائی، ملزم منشیات کا عادی تھا، جبکہ موقع سے قرآن مجید کے جلے ہوئے اوراق کاربن کے زرات کی صورت میں نہیں ملے۔

انہوں نے کہا کہ واقعہ گھر میں پیش آیا لیکن پولیس نے مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعات 342 اور 395’بی‘ کے علاوہ انسداد دہشت گردی قانون کی دفعہ 7 بھی لگادی، جبکہ واقعہ 2006 کا ہے۔

عدالت نے تمام ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ کی کہانی جھوٹی ہے، مدعی خود قرآن کے جلے اوراق لایا پولیس نے شواہد اکٹھے نہیں کیے، ماچس بھی مدعی نے دی اور استغاثہ نے اسے چیک نہیں کیا کہ وہ نئی تھی یا استعمال شدہ۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ماتحت عدالتوں نے کیس کا درست انداز میں ٹرائل نہیں کیا، پی پی سی کی دفعہ 395 ’بی‘ تو ٹھیک ہے، دہشت گردی کی دفعہ کیوں لاگئی گئی یہ سمجھ سے بالا تر ہے۔

عدالت نے ناکافی شواہد کی بنا پر ملزم کو بری کرنے کا حکم جاری کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: