جمشید دستی کی گرفتار، 14 روزہ ریمانڈ پر جیل منتقل

مظفرگڑھ: رکن قومی اسمبلی اور پاکستان عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی کو نہر کا پانی زبردستی کھولنے کے جرم میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل ملتان بھیج دیا گیا۔

جمشید دستی پر الزام ہے کہ انھوں نے گذشتہ ماہ کے آخر میں کالو ہیڈورکس چینل پر پانی کھولنے کے لیے لوگوں کو اکسایا تھا۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق چوک قریشی پولیس نے جمشید دستی کو گذشتہ رات اسلام آباد سے واپسی پر گرفتار کیا اور انھیں علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرکے 144 روزہ جوڈیشل ریمانڈ لے لیا گیا۔

جمشید دستی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے ایس ایچ او مجاہد حسین نے بتایا کہ رکن اسمبلی نے 29 مئی کو چند لوگوں کے ساتھ مل کر مظفرگڑھ کنال پر ڈینگا نہر میں پانی جاری کرنے کے لیے کالو ہیڈورکس چینل پر گیٹ کو کھول دیا۔

ایس ایچ او کے مطابق محکمہ انہار نے جمشید دستی کو مذکورہ گیٹ کھولنے سے منع کیا تھا جو گذشتہ کئی ماہ سے بند تھا۔

کوٹ ادو کے ایگزیکٹو انجینیئر مہر ریاض کے مطابق انھوں نے صورتحال کے حوالے سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا جبکہ پولیس کو بھی ایکشن لینے کی درخواست کی تھی۔

نہر کھولنے پر محکمہ انہار کے افسران نے جمشید دستی کے خلاف کار سرکار میں مداخلت کا مقدمہ درج کرایا تھا۔

دوسری جانب جمشید دستی نے اپنے اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کسانوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پانی کھولا جو اپنی فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی سے محروم تھے اور احتجاج کر رہے تھے۔

اس سے قبل ستمبر 2014 میں بھی جمشید دستی کے خلاف اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پولیس ٹیم پر حملے، سرکاری کام میں مداخلت، پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور دھمکیاں دینے کے الزامات پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس پر انھوں نے اپنے ساتھیوں سمیت گرفتاری دے دی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: