جلسہ عام: خالد مقبول صدیقی کا کارکنان کو واپسی کا مشورہ، عام معافی کا اعلان
کراچی: ایم کیو ایم کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی نے کسی بھی وجہ سے گھر بیٹھ جانے والے کارکنان کو عام معافی دینے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں واپسی کا مشورہ دے دیا۔
کراچی میں سینئر ڈپٹی کنونیئر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ’’آرٹیکل 144A اٹھارویں ترمیم کاحصہ ہے جو خودمختار بلدیاتی داروں کا کہتا ہے، ایم کیوایم کا سب سے بڑا جرم پاکستان زندہ باد کے نعرہ کے ساتھ کھڑا رہنا ہوگیا ہے، تمام دفاتر بند ہونے کے باوجود آج ایم کیوایم پہلے سے زیادہ منظم و مضبوط ہے‘‘۔
اُن کا کہنا تھاکہ ’’شہری حقوق کے تحفظ کا واحد راستہ عوام کے پاس جانے کا ہے، ایم کیوایم کے 95 فیصد کارکنان ایم کیوایم کے جھنڈے کے ساتھ کھڑے ہیں، صوبائی خودمختاری سے زیادہ عام عوام کی خودمختاری ضروری ہے، اٹھارویں ترمیم کے نام پر شہری علاقوں کے ساتھ کھل کر دھوکا ہوا‘‘۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ’’کراچی حیدرآباد میرپورخاص کے عوام تاحال ایم کیو ایم کے ساتھ ہیں، ہمارا جلسہ سندھ کے شہری حقوق کے تحفظ کا تعین کرے گا، سندھ بھر کے کارکنان اور عوام شرکت کریں گے، انتقامی کارویوں اور پابندیوں کے باوجود ایم کیوایم پاکستان آج بھی سندھ کے شہری علاقوں کی موثرآواز ہے۔
دوسری جانب عامر خان کا کہنا تھا کہ ’پیپلزپارٹی نے گیارہ سال میں شہری علاقوں سے لوٹ مار کی، ایم کیوایم ایک روایت شکن جماعت ہے، ہمارا کامیاب جلسہ یہ ثابت کرے گا کہ ایم کیو ایم آج بھی متحد ہے اس کے باوجود کے عام انتخابات میں ہمارا میڈیٹ بھی چھینا گیا،
اُن کا کہنا تھا کہ جعلی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت نے دس سال میں کراچی کو لوٹا، اہل کراچی کیلئے پانی سب سے بڑا منصوبہ ہے کے فور منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی، کراچی کا امن خوشحالی پورے پاکستان کا امن خوشحالی ہے۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی کی آبادی تین کروڑ سے ہرگز کم نہیں مگر مردم شماری میں سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کو گنا نہیں گیا، مردم شماری اور حلقہ بندیوں میں دھاندلی کی گئی، سندھ میں جعلی مینڈیٹ رکھنے والی حکومت قابض ہیں۔
