اصغر خان کیس کے مرکزی کردار اور سیاستدانوں کی دولت کے بل بوتے پر کسی کی ایماں پر وفاداریاں تبدیل کرنے والے معروف بینکر یونس حبیب کراچی مٰں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔
معروف بینک کی عمر 78 برس تھی وہ طویل عرصے سے علیل اور آغا خان اسپتال میں زیر علاج تھے، آج صبح اہل خانہ نے اُن کی موت کی تصدیق بھی کی۔
اہل خانہ کے مطابق یونس حبیب کا نماز جنازہ ڈیفنس میں واقع مسجد بیت السلام میں ادا کیا جائے گا۔ انہوں نے 1963 میں اپنے کیئریئر کا آغاز حبیب بینک لمیٹیڈ سے کیا بطور کلرک کیا بعد ازاں وہ 1991 میں صوبائی سربراہ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
سندھ کے سابق وزیراعلیٰ جام صادق نے 1991 میں یونس حبیب کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے مہران بینک کے قیام کی منظوری دی جس کی سربراہی مرحوم کو دی گئی۔
https://zaraye.com/asghar-khan-case/
تحریک استقلال کے سربراہ اصغر خان نے 1996 میں عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ آئی ایس آئی نے 1990 کے انتخابات میں پی پی سمیت دیگر سیاستدانوں کو انتخابات میں مالی فوائد فراہم کیے تھے۔
یاد رہے کہ عدالتی حکم پر تین بار اصغر خان کیس کی تفتیش کے لیے کمیٹی بن چکی ہے تاہم کئی سالوں گزر جانے کے بعد اس کی رپورٹ شائع نہیں کی گئی، صحافی وسعت اللہ اور مبشر زیدی کہتے ہیں کہ رپورٹ سامنے آنے پر کئی چہرے عیاں ہوسکتے ہیں۔
https://zaraye.com/4766-2/
اصغر خان کیس سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے جہاں گزشتہ سماعت پر ایف آئی اے نے مقدمہ بند کرنے کی درخواست دائر کی تھی اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ شواہد اکھٹے نہیں کیے جاسکتے۔
