مشعال کا بچ جانے والا سامان یونیورسٹی سے گھر پہنچ گیا

مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مقتول مشعال خان کا سامان ہاسٹل سے گھر پہنچادیا گیا تاہم اہل خانہ نے متعدد اشیاء کے غائب ہونے کا دعویٰ کردیا۔

یونیورسٹی کے ہاسٹل سے گھر منتقل کیے جانے والے سامان میں کتابیں، کپڑے، جوتے، ان کی تصاویر اور بیگس سمیت دیگر اشیاء شامل ہیں۔

سامان گھر پہنچنے پر مقتول مشعال خان کے والدین نے سامان کی جانچ کی تو معلوم ہوا کہ اس میں سے بیشتر سامان غائب ہے۔

مقتول مشعال خان کا گھر منتقل کیا جانے والا سامان — فوٹو: حسن فرحان.

مشعال خان کے والدین نے دعویٰ کیا کہ غائب چیزوں میں بٹوہ، کیمرہ، موبائل اور لیپ ٹاپ غائب ہے، جو گھر منتقل نہیں کیے گئے۔

اس موقع پر مقتول مشعال خان کے والدین اپنے بیٹے کا سامان دیکھ کر افسردہ ہوگئے۔

مشعال خان کا سامان — فوٹو: حسن فرحان.

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ 13 اپریل کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں گستاخی کے الزام میں شعبہ ابلاغ عامہ کے 23 سالہ طالب علم مشعال خان کو تشدد کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔

Image may contain: one or more people

واقعے کے بعد یونیورسٹی سے متصل ہاسٹلز کو خالی کرالیا گیا جبکہ یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا۔

Image may contain: 1 person, sitting

بعدازاں مشعال کی بہن نے ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اپنے بھائی پر لگائے گئے الزامات غلط قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مشعال کا کسی سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: