سکھر میں اغوابرائے تاوان میں ملوث پولیس اہلکار گرفتار

سکھر میں پولیس نے لوگوں کو اغوا کر کے ٹارچر سیل میں قید رکھنے اور رہائی کے لیے تاوان وصول کر نے والے دو پولیس اہلکاروں سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر لیا تاہم گروہ کا سرغنہ فرار ہو گیا۔

ڈی آئی جی سکھر کی خصوصی ٹیم نے سکھر سمیت مختلف علاقوں سے چیکنگ کے بہانے لوگوں کو اغوا کر نے اور انھیں ٹارچر سیل میں رکھنے والے پولیس اہلکاروں کے گروہ کے انکشاف پرروہڑی میں چھاپہ مار کر دو پولیس اہلکاروں محمد جاوید کھیڑو اور نعیم احمد سمیت چار افراد کو گرفتار کیا۔

چھاپے کے دوران ٹارچر سیل کے انچارج کرپشن اوربھتہ خوری کے الزامات میں نوکری سے برطرف سب انسپکٹر ایاز کھیڑو موقع سے فرار ہو گیا۔

ڈی آئی جی سکھر فیروز شاہ کے مطابق مذکورہ ملزمان نے کوئٹہ سے اسلام آباد جانے والے چارٹرڈ اکاؤنٹینسی کے تین طلبا خلیل احمد، عبدالصادق اور عمران خان کوقومی شاہراہ پر روکا اور انھیں گاڑی سمیت اپنے ٹارچر سیل لے گئے جہاں انھیں حبس بے جا میں قید رکھا گیا اور ان کے اہل خانہ سے دس لاکھ روپے تاوان وصول کر کے رہا کیا گیا۔

ڈی آئی جی کے مطابق تینوں طلبہ کو پولیس کی نگرانی میں پنجاب کے بارڈر تک چھوڑا گیا تاکہ وہ کسی کو سندھ میں شکایت نہ کر سکیں، واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد مذکورہ ٹارچر سیل پر چھاپہ مارکر گرفتاریاں کی گئیں اور واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ڈی آئی جی کے مطابق اس گروہ کا سرغنہ سابق سب انسپکٹر ایاز کھیڑو کا تعلق مٹیاری سے ہے جو 2015 میں بھتہ خوری اور کرپشن کے الزامات ثابت ہو نے پر نوکری سے نکالا جاچکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کانسٹیبل محمد جاوید کھیڑو ضلع مٹیاری میں تعینات تھا اور یہ اے ایس آئی کی وردی پہن کر سکھر میں غیر قانونی طور ٹارچر سیل چلاتا رہا ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ کا نوٹس

صوبائی وزیرداخلہ سہیل انور سیال نے ایس ایس پی سکھر کی سرپرستی میں برخاست اہلکار کی جانب سے ٹارچر سیل چلانے کی خبروں پر نوٹس لے لیا۔

وزیرداخلہ نے ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ ڈاکٹر ولی اللہ دال کو واقعے کی انکوائری کے بعد رپورٹ جمع کرانے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: