مشال قاتلوں کو رہا کرو، جماعت اسلامی میدان میں آگئی

پشاور: جماعت اسلامی ضلع چارسدہ نے مشال قتل کیس میں گرفتار اسلامی جمعیت طلباء کے کارکنان سمیت دیگر ملزمان کو رہا کرنے کا مطالبہ کردیا۔

روزنامہ 92 کے مطابق جماعت اسلامی کا ضلعی اجلاس چارسدہ میں منعقد کیا گیا جس میں جے آئی ٹی رپورٹ کو نامکمل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ تفتیشی افسران نے توہین رسالت کے قانون کو نظر انداز کیا، مشال قتل کیس میں تمام پہلوؤں سے تحقیقات ہونی چاہیے۔

جماعت اسلامی سمیت تمام مقامی جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ اگر مشال قتل کیس میں گرفتار ملزمان کو رہا نہیں کیا گیا تو جلد صوبے کی تمام سیاسی اور ملک بھر کی تمام مذہبی جماعتوں کا ایک اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل بنایا جائےگا۔

اجلاس کے آخر میں اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی نے مشال قتل کو صرف ایک پہلو یعنی یونیورسٹی میں ہونے والی بدانتظامیوں سے لیا اور رپورٹ میں توہین رسالت کو یکسر نظر انداز کردیا گیا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ عبدالولی یونیورسٹی میں پختون کلچر اور اسلامی شعائر کے مطابق طلبہ و طالبات کی ایک ساتھ محفلوں پر پابندی عائد کی جائے تاکہ جامعہ کا ماحول خراب نہ ہو۔

یاد رہے گزشتہ دنوں مشال کے والد نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بیٹے کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے میں کردار ادا کریں اور انہوں نے سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کی کہ بیٹیوں اور خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: