سرینگر : انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ترال قصبے میں پیدا ہونے والی ماہرہ شاہ بچپن سے ہی پینٹنگ کا شوق رکھتی تھیں اور آج کل وہ بودھ اور ہندو روایات پر مبنی ’منڈلا آرٹ‘ میں نام کما رہی ہیں۔
منڈلا آرٹ دراصل پینٹنگ کی ہی ایک صنف ہے لیکن اس میں چہروں اور چیزوں کے عکس دائروں کے ذریعے بنائے جاتے ہیں۔

ان کی شادی 19 سال کی عمر میں ہوئی اور جلد ہی اُن کا ایک بیٹا بھی پیدا ہو گیا۔ماہرہ کہتی ہیں کہ شادی اور بچے کی پیدائش سے میری پڑھائی ضرور متاثر ہوئی لیکن میں نے اپنے آرٹ کو نہیں چھوڑا۔
فیملی لائف کا مطلب یہ تو نہیں کہ میں خواب دیکھنا چھوڑ دوں گی۔ماہرہ کو سب سے چھوٹا ’شکارا‘ بنانے پر ’انڈین بُک آف ریکارڈز‘ میں شامل کر کے سونے کا تمغہ بھی دیا گیا۔
ایشیا بُک آف ریکارڈز میں بھی اُن کی بنائی گئی ’کانگڑی‘ کو شامل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچپن سے ہی وہ تخلیقی کاموں میں دلچسپی لیتی تھیں اور والدین اُن کی چوائس کا احترام کرتے تھے۔میرے سُسرال میں بھی میرے خاوند اور ساس سُسر میرے کام سے خوش ہیں۔

ان کاکہناتھاکہ میری ساس نے مجھ سے کہا ہاؤس وائف بن کر زندگی ختم نہ کرو، اپنے خوابوں کو پورا کرو۔ میں چاہتی ہوں کہ کشمیر کے کلچر کو پوری دنیا میں پروموٹ کروں۔
انہوں نے کہاکہ میرا مقصد عالمی ریکارڈ بنانا ہے۔تاہم ماہرہ کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا بھی سامنا رہا۔ کئی لوگوں نے حوصلہ افزائی بھی کی اور مدد بھی کی۔
( نیٹ نیوز / مانیٹرنگ ڈیسک )
