کراچ: سینٹرل جیل سرچ آپریشن، جدید طریقے سے قیدیوں کے موبائل استعمال کرنے کا انکشاف

کراچی: برگیڈئیر سیکٹر کمانڈر  بھٹائی رینجرز  شاہد جاوید  کی سینٹرل جیل میں سرچ آپریشن کے حوالے سے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سرچ آپریشن پچیس سال بعد کیا گیا۔

سینٹرل جیل کے باہر میڈیا بریفنگ دیتے ہونے رینجرز کمانڈر نے کہا کہ میڈیا بریف کا مقصد جیل میں آپریشن سے آگاہ کرنا ہے، سرچ اینڈ سوئیپ آپریشن اس نوعیت کا پچیس سال بعد کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن میں پولیس اور انٹیلی جنس جوان شامل تھے، جیل کو دھکمی کے حواکے سے کنٹی جینسی پلینگ کی جاچکی ہے، اس سے پہلے جتنے بھی آپریشن کیے گئے وہ سب جیل کی حدود سے باہر تھے۔

کمانڈر شاہد نے بتایا کہ جیل میں قید چھ ہزار قیدیوں کی فزیکل سرچنگ بھی کی گئی، آپریشن کا مقصد جیل سے ممنوعہ سامان کا صفایا بھی تھا، جیل سےموبائل فون سے ذریعے نیٹ جرائم کی وارداتوں کا نیٹ ورک چلایا جارہا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جیل میں موبائل سم چلانے کے لیے جدید ڈیوائس کا استعمال جاری تھا، جیل انتظامیہ کے باروچی خانے کے علاوہ 10 اضافی مطبخ بھی موجود تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ گیس کے دیڑھ سو سے زائد سلینڈر برآمد کیے گئے، جیل کے باورچی خانے مخصوص طبقے کے قیدیوں کے زیر استعمال تھا، جیل کے احاطے میں موجود مسجد اور لائبریری کی بھی تلاشی لی گئی، مقدس کتابوں کے ذریعے جیل میں منشیات سپلائی کی جاتی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: