اسلام آباد : سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ یاد نہیں کہ خواجہ طارق رحیم سے کس کیس پر اور کب بات کی۔
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنی آڈیو لیک پر ’جیو نیوز‘ سے گفتگو میں وضاحت کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رائٹ ٹو پرائیویسی کے خلاف ہے کہ دو افراد کی گفتگو ایسے اچھالی جائے، میں نے کون سا کشمیر بیچا ہے، کون سا کوئی پاکستان کا سودا کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 2 افراد کی گفتگو کو ایسے اچھالنا رائٹ ٹو پرائیویسی کے خلاف ہے۔سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میں نے کونسا کشمیر بیچا ہے، کونسا کوئی پاکستان کا سودا کیا ہے، خواجہ طارق رحیم سے پرائیویٹ گفتگو ہے۔
