بھارت: مسلمانوں پر تشدد؛ بھارتیوں‌کے انتہاء پسندوں کے خلاف مظاہرے

نئی دہلی: بھارت کے دارالحکومت اور دیگر شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے ملک میں انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں پر ہونے والے قاتلانہ حملوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر ‘میرے پر نہیں’ آویزاں تھا جبکہ مظاہرین نے کھلے عام مسلمانوں پر قاتلانہ حملوں پر مودی سرکار کی جانب سے خاموشی پر شدید مذمت بھی کی۔

یاد رہے کہ 2014 میں بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد سے لیکر اب تک بھارت میں مسلمانوں پر کثیر تعداد میں جان لیوا حملے ہو چکے ہیں جن میں درجنوں مسلمان مارے جا چکے ہیں۔

نئی دہلی میں ہونے والے مظاہروں میں ہر عمر کے افراد نے اپنے بچوں سمیت شرکت کی اور شمعیں روشن کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، بنیادی طور پر مظاہرین ان واقعات پر یہ باور کروانا چاہتے تھے کہ ہندو مذہب اور ہندوؤں کے نام پر مسلمانوں پر حملے کیے جا رہے ہیں، اور مسلمان اقلیت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو قابلِ مذمت ہے۔

بھارتی تجارتی مرکز ممبئی میں شدید بارش کے باوجود سیکڑوں افراد نے مظاہروں میں شرکت کی جن میں بولی ووڈ اداکار بھی شامل تھے۔

اس کے علاوہ بھارت کے دیگر شہروں میں بھی مسلمان برادری پر حملوں کے خلاف مظاہرے ہوئے۔

گذشتہ جمعہ کو نئی دہلی کے مضافاتی علاقے میں ایک چلتی ہوئی ریل گاڑی میں تقریبا 20 افراد نے چار مسلمان مسافروں پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں ایک نوجوان ہلاک جبکہ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔

زخمی ہونے والے افراد نے بتایا کہ ریل گاڑی میں سیٹ پر تنازع شروع ہوا جس کے بعد ہندو افراد نے انہیں ‘گائے کھانے والے’ کہ کر مارنا شروع کردیا۔

یاد رہے کہ ہندو مذہب میں گائے کو مقدس مانا جاتا ہے اور بھارت میں کئی مقامات پر گائے کو ذبح کرنے اور اس کا گوشت کھانے پر پابندی ہے جبکہ گذشتہ کئی برسوں میں بھارت میں مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے اور اس کا گوشت کھانے کے الزام میں قتل کیا جاچکا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی کی سرپرستی میں رہنے والے کچھ انتہا پسند گروپوں نے مسلمان مویشی تاجروں اور ڈیری فارم کا کام کرنے والے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

مسلمان بھارت کی تقریبا 1 ارب 30 کروڑ کی آبادی کا 14 فیصد حصہ ہیں جبکہ ہندو 80 فیصد سے زائد ہیں۔

بھارت میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بھارتی حکومت کے اہلکاروں نے اب تک مسلمانوں پر ہونے والے قاتلانہ حملوں کی واضح الفاظ میں مذمت نہیں کی اور نہ ہی حملہ آوروں کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی گئی ہے۔

گذشتہ 3 ماہ میں قتل کیے جانے والے 5 مسلمانوں پر ہونے والے حملے دن کی روشنی میں کھلے عام کیے گئے ہیں۔

رواں سال یکم اپریل کو ہریانہ سے تعلق رکھنے والے پہلو خان نامی ایک مسلمان مویشی تاجر کو راجستھان میں انتہا پسند ہندوؤں کے ایک گروہ نے مشتعل ہو کر ہلاک کردیا تھا۔

اس کے علاوہ رواں سال ہی مئی کے مہینے میں بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں دو مسلم نوجوانوں کو گائے کو اغوا کرنے کے الزام میں مشتعل ہندوؤں نے تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا تھا۔


یہ خبر 29 جون 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

اپنا تبصرہ بھیجیں: