پارہ چنار دھماکے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، آرمی چیف

پاکستان فوج کا کہنا ہے دشمن کی خفیہ اجنسیاں اور ملک دشمن عناصر حالیہ واقعات کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ اور نسلی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق فوج اس سب پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دشمن پہلے شدت پسندی کے ذریعے ہمیں تقسیم کرنے میں ناکام ہوا اور اب ہمیں فرقہ وارنہ اور نسلی بنیادوں پر الگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

حالیہ دنوں پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے مرکزی شہر پاڑہ چنار میں ہونے والے دو دھماکوں کے حوالے سے آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شدت پسندی کے اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کو بلا امتیاز معاوضہ ادا کیے جانے کو یقینی بنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعے کو پاڑہ چنار میں کڑمان اڈہ کے قریب ہونے والے ان دو دھماکوں میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاڑہ چنار

جس کے بعد وہاں کے مقامی افراد گذشتہ چھ دنوں سے احتجاجی دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

بدھ کو جاری ہونے والے اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دشمن نے پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم کا آغاز کیا ہے جسے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلایا جا رہا ہے، جوکہ ایک قابل مذمت عمل ہے اور ہم سب کو اس سے آگاہ رہنا چاہیے۔

اس موقع پر پاکستان کی بری فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ’ہمارے لیے ہر شہید اور زخمی، چاہے کسی نسل اور فرقے سے ہو برابر ہیں، اور وہ ہمارے لیے ایک بڑا نقصان ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب پاکستانی اور مسلمان ہیں جو پاکستان کی تمام اقلیتی برادری کے مذہبی حقوق کا احترام کرتے ہیں۔‘

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فاٹا سمیت ملک بھر کی سکیورٹی صورتحال کنٹرول میں ہے اور اسے دوبارہ سے خراب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: