نوازشریف جی ٹی روڈ سے لاہورجانے کے خواہش مند کیوں؟ تحریر:‌ عمیر دبیر

پاناما کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے والے نوازشریف نے اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور جانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ ، ممکن ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی ہو تاہم اس کے پیچھے کچھ باتیں چھپی ہونے کی بھی توقع ہے۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے پورے ملک میں پاناما فیصلے پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ کا نہیں بلکہ کچھ اور طاقتوں کا ہے اور کچھ اسی طرح کی سوچ تھوڑے بہت ذی شعور لوگ بھی رکھتے ہیں جن کا تعلق مسلم لیگ ن سے نہیں ہے۔

اگر مسلم لیگ ن کے اس مؤقف کو لمحے بھر کے لیے سوچا جائے تو وہ کہیں نہ کہیں ٹھیک بھی لگتا ہے کیونکہ دو سال چلنے والے پاناما مقدمے میں نوازشریف کی کوئی آف شور یا پھر ٹیکس کی چوری سامنے نہیں آئی البتہ  جے آٗئی ٹی نے ایک اے فور کاغذ کا ٹکڑا اقامہ تلاش کیا جس کی بنیاد پر نوازشریف کو نااہل اور شریف خاندان، کپیٹن (ر) صفدر، اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا گیا۔

عدالتی فیصلے کے بعد گماں کیا جارہا تھا کہ دیگر جماعتوں کی طرح لیگی رکن قومی و صوبائی اسمبلی بھی نوازشریف کا ساتھ چھوڑ دیں گے اور اس ضمن میں لسٹیں بھی مرتب کرلی تھیں تاہم آخری وقت میں اراکین نے یقین دہانی کروانے کے باوجود مسلم لیگ ن کا ساتھ نہ چھوڑا اور اپنے قائد پر اس قدر اعتماد کا اظہار کیا کہ نومنتخب وزیراعظم  کے چناؤ والے روز اسمبلی میں نوازشریف کی تصاویر لہرا دیں۔

مسلم لیگ ن کے قائد نااہلی کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے خاندان کے ہمراہ مری منتقل ہوئے اور انہوں نے براستہ موٹروے اپنے گھر جانے کا فیصلہ کیا تاہم سیکیورٹی خدشات یا سیاسی تدبر کو استعمال کرتے ہوئے مسلم لیگ کی قیادت نے فیصلہ مؤخر کیا اور آج وزیراعظم کا قافلے نے لاہور کارختِ سفر باندھا۔

مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف بذریعہ سڑک لاہور جانے کے خواہش مند اس لیے ہیں کہ اگر وہ اپنے مقررہ مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تو عدلیہ کو فیصلے پر دباؤ میں لیں گے اور نیب ریفرنس کو بند کروانے کی پوری کوشش کریں گے تاہم کسی بھی حادثے یا دوسری صورت میں نوازشریف اگر براستہ لاہور نہ پہنچ سکے تو حسن نواز کی جے آئی ٹی تصویر لیک کرنے والے عناصر مزید مضبوط ہوجائیں گے اور پھر مسلم لیگ کے قائد و اہل خانہ کے لیے سلاخیں تیار ہوں گی۔

اگر نواز شریف لاہور تک پہنچ گئے تو سیاسی طور پر وہ بہت بڑی طاقت بن کر ابھریں گے اور ممکن ہے اگلی حکومت بھی مسلم لیگ ن کی ہو تاہم اگر وہ ناکام رہے تو سب کو یاد ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن سمیت دیگر مقدمات کی ایف آئی آرز میں وہ نامزد ہیں اور تاریخ رہی ہے کہ زیرعتاب شخص کے خلاف گواہی دینے کے لیے سب وعدہ معاف گواہ بن جاتے ہیں بلکہ گیلے کنوؤں سے خشک اور زمین میں مدفون اسلحہ صاف ستھری بوری میں برآمد ہوتا ہے۔

ماضی کودیکھتے ہوئے نوازشریف بھی پوری کوشش کریں گے کہ لاہور تک باحفاظت پہنچنے کے لیے چوہدری نثار اُن کے ساتھ کنٹینر پر سوار ہوں اور زیادہ سے زیادہ دن ریلی میں لگ سکیں تاکہ اسٹیبلشمنٹ عوامی طاقت کو دیکھ کر مذاکرات کی دعوت دے اور پھر سے کوئی درمیان کا راستہ نکلے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: