آج کا ملزم کل کا محب وطن” تحریر عمیر دبیر

یہ اُس وقت کی بات ہے جب پاکستانی سیاست کے نقشے پر ایک نئی سیاسی جماعت ابھر کر سامنے آرہی تھی اور پورے ملک میں بہت تیزی سے مقبول ہورہی تھی اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اس جماعت کے قائد نے ’’حقیقت پسندی اور عملیت پسندی‘‘ کی فکر اور ابھارا اور متوسط طبقے کے حقوق کی آواز اٹھائی۔

دنیا نے دیکھا کہ کراچی کے متوسط اور غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان لڑکے اس جماعت سے الیکشن لڑ کر اسمبلی پہنچے اور انہوں نے حلقے کے عوام کیلیے آواز بلند کی، یہاں تک تو یہ جماعت محب وطن اور سب سے تیزی سے مقبول ہوتی سیاسی جماعت سمجھی جارہی تھی مگر اس کے ایک دبلے پتلے نوجوان ایم پی اے نے سندھ اسمبلی میں پہلی تقریر کر کے مطالبہ کیا کہ دفاعی بجٹ کا بھی آڈٹ کیا جائے۔

تقریر ہونے کے اگلے ہی سال اس جماعت کے قبضے سے جناح پور کے نقشے برآمد ہوئے اور بھارت سے رابطوں کا انکشاف بھی ہوا، اس انکشاف کے بعد ریاستی آپریشن ہوا جس میں کئی ہزاروں نوجوانوں کو اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے، وقت آگے بڑھتا رہا پھر اس جماعت کو 1999 میں پاکستان کے مقدس ادارے نے اس جماعت کو سب سے زیادہ محب وطن جماعت قرار دیا اور پھر ان کا اچھا وقت شروع ہوگیا۔

اچانک آٹھ سال کا طویل عرصہ گزرا اور ایک بار پھر این او سی ملنے والی جماعت کے راء سے تعلقات کا انکشاف ہوا، بھارتی اسلحہ برآمد ہوا اور کئی اعترافی بیانات بھی سامنے آگئے اور اب ایک بار پھر اس جماعت کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کردی گئیں۔

دوسری طرف اگر ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ دیکھا جائے تو انہیں عدلیہ نے پھانسی دی مگر آج وہی عدالتیں بھٹو کی برسی پر احتجاجاً بند ہوتی ہے اور کارروائی کا بائیکاٹ کرتی ہیں، اسی طرح حافظ سعید سابق آرمی چیف کے دور میں اچھی شخصیت نہیں تھے تاہم گزشتہ کچھ سالوں سے وہ محب وطن ہوگئے۔

اسی طرح سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف بھی ایک وقت تک بہت مقبول تھے پھر عدالتوں نے اُن کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا اور پھر دھرنے کے بعد وہ جیسے ہی بیرونِ ملک گئے ایک بار پھر ہیرو بن گئے اور تاثر دیا جانے لگا کہ وہی قوم کے ہیرو ہیں اور بس اب ملک کو انہی کی ضرورت ہے باوجود اس کے کہ وہ غداری مقدمے میں اشتہاری ہیں۔

نوازشریف جن کے بارے میں مشہور ہیں کہ اُن کی سیاسی پرورش ضیاء نرسری میں ہوئی پاناما مقدمے سے قبل مقبول نہ تھے تاہم آر او الیکشن کے تحت عام انتخابات میں نتائج سے پہلے ہی اپنے آپ کو وزیراعظم قرار دینے والے مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد نوازشریف پاناما کیس کے بعد اچانک محب وطن سے مجرم ہوگئے اور سپریم کورٹ نے انہیں نااہل قرار دے دیا۔

ملکی تاریخ کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی تقریباً ہر تیسرے سال تبدیل ہوجاتی ہے اگر سیاسی جماعت یا اُس وقت کا وزیراعظم زیر عتاب نہ ہو اور پھرموجودہ کے جاتے ہی پہلے والے ملزم و مجرم محب وطن اور محب وطن ملزم و مجرم ہوجاتے ہیں، آج نوازشریف کو برا اور کرپٹ شخص کہنے والے یاد رکھیں کہ ممکن ہے تاریخ دوبارہ کروٹ لے اور اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی تبدیل ہو اور پھر کلثوم نواز خاتون اول اور مریم نواز دختر پاکستان بن جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: