اسلام آباد: ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں بہت اہم پیشرفت اُس وقت سامنے آئی کہ جب انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے ایف آئی اے کی امیدوں پر پانی پھیرا۔
تفصیلات کے مطابق انسداددہشتگردی عدالت میں ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس کی سماعت ہوئی جس میں ایف آئی اے کے حکام نے برطانیہ سے مزید شواہد جمع کرنے کے لیے وقت دینے کی استدعا کی۔
عدالت نے اس استدعا کو مسترد کیا جس کے بعد ایف آئی اےکوبرطانیہ سےشواہدپیش کرنےکےلیےمزیدوقت نہ مل سکا، انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے 20 جون کو حتمی دلائل طلب کرلیے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر ایف آئی اے نے عدالت سے برطانیہ سے شواہد اکھٹے کرنے کے لیے وقت طلب کیا تھا، اُس سے قبل ملزمان کو سوالنامہ بھی دیا گیا جس پر مجسٹریٹ نے ملزمان کے بیانات قلم بند کیے۔
معظم علی، خالد شمیم اور محسن علی نے مجسٹریٹ کے سامنے چالان میں پیش کیے گئے بیان سے انکار کیا اور بتایا کہ اُن پر تشدد کر کے ایک پرچے پر دستخط لیا گیا۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو لندن میں قتل کیا گیا تھا جس کے بعد کراچی ائیرپورٹ سے محسن علی اور کاشف کو حراست میں لیا گیا تھا، بعد ازاں خالد شمیم اور معظم علی کو سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
حساس اداروں کی تحویل میں کاشف انتقال کرچکا، اسکاٹ لینڈ یارڈ اور برطانوی تفتیشی ٹیم نے آلۂ قتل کے جو فنگر پرنٹس حاصل کیے وہ کاشف سے ملتے جلتے بتائے جاتے ہیں کیونکہ محسن علی کے فنگر پرنٹس میچ نہیں ہوئے۔
