لاہور : چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان گرفتار ہونیوالے پہلے سابق وزیراعظم نہیں ہیں ،ان سے پہلے 3سابق وزرائے اعظم نواز شریف ،شاہد خاقان عباسی اور ذوالفقارعلی بھٹو نے بھی یہ دن دیکھا تھا۔
ایک رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کو مجموعی طور پر 3مرتبہ گرفتار کیا گیا،انہوں نے جیل بھی کاٹی اورجلاوطنی بھی برداشت کرنا پڑی۔نواز شریف ایک مرتبہ عمران دور حکومت میں گرفتار ہوئے، اسی دور میں ہی شاہد خاقان عباسی بھی گرفتار ہوئے۔
2018ء میں 13جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے بعد نواز شریف اپنی شدید بیمار بیوی کو لندن چھوڑ کر بیٹی مریم نواز کے ہمراہ گرفتاری دینے خود لاہور پہنچے تو نیب نے انہیں گرفتار کیا۔
نوازشریف کو عمران خان دور میں 24دسمبر 2018ء کو العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں کمرہ عدالت سے ہی ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا۔احتساب عدالت نے انہیں 7سال قید اور اڑھائی کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی ۔
نواز شریف کو پہلی مرتبہ 12باکتوبر 1999ء کو پرویز مشرف کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد طیارہ سازش کیس اور ہیلی کاپٹر ریفرنس میں گرفتار کیا گیاتھا اور وہ کئی ماہ تک اٹک قلعہ میں قید رہے،بعد میں انہیں 10سال کیلئے جلاوطن بھی کردیا گیا۔
عمران خان کے دور اقتدار میں ہی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نیب کی جانب سے جولائی 2019ء میں ایل این جی ریفرنس میں لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا۔
فروری 2020 میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد انہیں اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا ۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سب سے پہلے گرفتار ہونیوالے سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو تھے، جنہیں نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کیس میں گرفتار کیا گیا تھا، بعد میں عدالت نے اسی کیس میں انہیں پھانسی کی سزا سنائی تھی ۔
