Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ایم کیو ایم وہ واحد جماعت نے جس نے ملک مخالف نعرے پر اپنے قائد کو چھوڑ دیا، خالد مقبول | زرائع نیوز

ایم کیو ایم وہ واحد جماعت نے جس نے ملک مخالف نعرے پر اپنے قائد کو چھوڑ دیا، خالد مقبول

ایم کیو ایم وہ واحد جماعت ہے جس نے ملک مخالف نعرے پر اپنے قائد کو چھوڑ دیا، خالد مقبول

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ مرکز بہادر آباد سے متصل پارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے کہ جب اس کے سربراہ نے پاکستان کے خلاف نعرہ لگایا تو پوری جماعت نے ان سے لاتعلقی اختیار کرلی لیکن اس کے باوجود ہم پر سیاسی اور جمہوری ادوار میں مقدمات بنتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگوں نے مقدمات بننے پر رضاکارانہ گرفتاریاں دی ہیں اگر تعصب کی عینک ہٹا کر دیکھا جائے تو ہماری گرفتاریوں پر اس طرح کا احتجاج نہیں ہوا جو آج اس ملک میں جاری ہے اگر احتجاج ہوا بھی ہے تو وہ سیاست تک محدود رہا ہے ہم نے اپنے احتجاج کا رخ کبھی بھی ریاست کے خلاف نہیں کیا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم سب نے اپنی جوانی کا بڑا حصہ جیلوں میں گزارا ہے ، پاکستان کے تمام قوانین میں سے بیشتر کی پریکٹس ہماری قیادت اور کارکنان پر کی گئی ہم نے سزا ہونے سے پہلے کئی کئی سال سزا کاٹی ہے ہم پر مقدمات بنے مگر ان میں سے شاید سزا ایک فیصد مقدمات پر بھی نہ ملی ہو ، پاکستان کی تاریخ میں ہم نے جو بھگتا ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے ہم اس کے باوجود پاکستان کے استحکام اس کی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک سیاسی رہنما کی گرفتاری پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے کل سے ہم جس قسم کی صورتحال دیکھ رہے ہیں وہ انتہائی افسوسناک ہے ، پی ٹی آئی احتجاج کا رخ ریاست اور ریاستی اداروں کی جانب ہے ، پاکستان کی تاریخ میں اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی اس کے باوجود اس وقت ملک میں انتشار پہلانے والوں کو کچھ نہیں کہا جا رہا۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اہلیان کراچی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے تحریک انصاف کے پر تشدد احتجاج میں شرکت نہ کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ 2018 میں ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا تھا ، فوج نیوٹرل نہیں ہوسکتی کیونکہ ملکی سلامتی و استحکام ان کی ذمہ داری ہے عدلیہ کو قانون و انصاف کی سربلندی کیلئے نیوٹرل ہونا چاہئے۔

عمران خان کیلیے وہ جنرل ڈرٹی ہیری ہیں جو آر ٹی ایس نہیں بٹھا رہے، مصطفیٰ کمال

اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفیٰ کمال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے لیے جنرل فیصل نصیر سمیت ہر وہ جنرل ڈرٹی ہیری ہے جو ان کے لیے آر ٹی ایس نہیں بٹھا رہا اور جو ان کے لیے سینٹ کا چئیرمین نہیں لا رہا ، جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران کے خلاف کارروائی ہوئی تو ملک ٹوٹ جائیگا تو اس کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ عمران خان ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف جو کچھ کر چکے ہیں اب اگر ان کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو پاکستان ٹوٹ جائیگا ، عمران خان کو وہ اسٹیبلشمنٹ چاہیے جو ناصرف انھیں حکومت دلوائے بلکہ ان کی مرضی کے مطابق حکومت بھی چلوائے ۔

انہوں نے کہا کہ معروف ہونے کے ضعم میں کوئی ریاست سے ٹکرانے کی بات کر رہا ہے تو کیا اس کی سپورٹ کی جائیگی؟ یزید ، فرعون اور ہٹلر بھی پاپولر تھے ، ہمارے ساتھ بھی کوئی پاپولر تھا لیکن جب اس نے ملک کے خلاف نعرہ لگایا تو ہم ریاست کے ساتھ کھڑے ہوگئے ۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ عمران خان 4 سال تک دوران حکمرانی اندرون خانہ زرداری صاحب سے ملے ہوئے تھے آج بھی آپ اندرون خانہ سب سے رابطے کر رہے ہیں یہ کیسی پارٹی ہے ، آج پی ٹی آئی کے لوگ کیا کچھ نہیں کر رہے لیکن جس طرح ہمارے ساتھ سلوک کیا گیا اگر وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو جاتا تو قیامت آجاتی ، آپ ہماری طرح لاپتہ نہیں ہوسکتے ، ہم نے تو ایک ٹریفک پولیس کی چوکی نہیں جلائی جبکہ تحریک انصاف کور کمانڈر ہاوس اور جی ایچ کیو کو نذر آتش کر رہی ہے ، جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کے خلاف کارروائی ہوئی تو ملک ٹوٹ جائے گا تو اس کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ عمران خان جو کچھ ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف کر چکے ہیں اب اگر ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی تو ملک ٹوٹ جائے گا ، کسی کو پسند ہو یا نہ ہو پاکستان ایک سیکیورٹی اسٹیٹ ہے۔

اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنے احتجاج کا رخ سیاسی مخالفین کے بجائے قومی سلامتی کے اداروں کی جانب کر کے ملک دشمنی کی ہے ، پاکستان میں سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کوئی نئی بات نہیں ہے ، تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے رضاکارانہ گرفتاریاں دی ہیں مگر عمران خان گرفتاری دینے کے روا دار ہی نہیں تھے ، ان کا یہ دعویٰ تھا کہ ان کے آنے سے تبدیلی آئی ہے تو ان کو گرفتاری دیکر آئین و قانون کا سامنا کرنا چاہیے تھا مگر تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ ہوا ، وہاں لوٹ مار کی گئی ، جلاؤ گھیراؤ کیا گیا۔

فاروق ستار نے کہا کہ ہم پر ظلم ہونے کے ساتھ جھوٹے مقدمات بنائے گئے اس کے باوجود ہم ان تمام جعلی مقدمات کا سامنا آئین و قانون مطابق کر رہے ہیں جبکہ تحریک انصاف نے تو سیاسی عمل سے ماورا اقدامات کیے ، انھوں نے تو ریڈ زون نہیں بلکہ ریڈیسٹ زون کراس کیا ہے ہم ان تمام اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔