تحریک انصاف میں‌ بھی بغاوت سر اٹھانے لگی

کراچی: عام انتخابات کی آمد کے ساتھ ہی تحریک انصاف کراچی میں عہدیداران کے درمیان شدید جنگ شروع ہوگئی، پارٹی عہدوں اور ٹکٹس کی غیر منصفانہ تقسیم پر انصافیوں نے عارف علوی کو انصاف ہاؤس میں زدوکوب کیا۔

تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے مرکز میں گزشتہ رات اجلاس جاری تھا کہ دو گروہوں میں تلخ کلامی ہوئی جو اس قدر برھ گئی کہ سردار عبدالعزیز کے ساتھ آنے والے کارکنان نے عارف علوی کی پٹائی کرڈالی۔

نمائندہ ذرائع کو پی ٹی آئی کے اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ متوقع عام انتخابات میں کراچی سے انتخابی کامیابیوں کیلئے آسان حلقوں میں پارٹی ٹکٹ کے حصول کو یقینی بنانے اور متحدہ قومی موومنٹ سے انتخابی اتحاد کیلئے خفیہ رابطے کرنے من پسندافراد میں پارٹی عہدوں کی تقسیم اورنظریاتی کارکنوں کو سائید لائن کرنے پر پی ٹی آئی کراچی میں اختلافات شدت اختیار کرگئے۔

منتخب بلدیاتی نمائندوں،سینئرعہدیداروں اورکارکنوں نے صوبائی صدر ڈاکٹرعارف علوی،کراچی کے صدرفردوس نقوی،عمران اسماعیل اورعلی زیدی کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا ہے، شدیداختلافات کی وجہ سے پارٹی تاحال کراچی کے جنرل سیکرٹری اورباقی عہدیداروں جبکہ چار اضلاع صدورسے محروم ہےاور اس طرح پاکستان کا سب سے بڑاشہر کراچی ملک کا واحدشہرجہاں پی ٹی آئی خواتین ونگ،یوتھ ونگ اورباقی ذیلی تنظیموں سے محروم ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ناراض کارکنوں نے ”پی ٹی آئی کراچی ورکرز اتحاد“ کے نام سے24 ستمبر اتوارکوانصاف ہاﺅس نرسری شاہراہ فیصل کے سامنے احتجاجی دھرنے اورجلسے کا فیصلہ کیا ہے، پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کی نئی تنظیم سازی میں پارٹی کے متحرک و بانی نظریاتی کارکنان کو بری طرح نظراندازکئے اورکراچی میں اضلاع کی سطح پرغیردستوری آرگنا ئیزرز مقررکئے جانے کے خلاف پارٹی کے سینئرعہدیداروں اورکارکنوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین عمران خان نے صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی کی سطح پرپارٹی میں نہایت کم مدت میں تمام عہدیداروںکی ایک بار پھر برطرف کرتے ہوئے کراچی کی سطح پر32رکنی کراچی کیبنٹ کا اعلان کیاگیا9 ستمبرکوصوبائی صدر ڈاکٹرعارف علوی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن نمبر032میںکراچی کیبنٹ کیلئے اعلان کردہ ممبران کی فہرست میں کئی متحرک اوربانی نظریاتی کارکنان کوبری طرح نظراندازکیا گیاہے۔

ذرائع کے مطابق جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے کراچی میں پی ٹی آئی کو متحرک کرنے والے سردارعبدالعزیز،سابق صوبائی جوائنٹ سیکرٹری اورضلع غربی یوسی45 سے منتخب چیئرمین شاہنوازجدون،یوسی بنارس سے منتخب وائس چیئرمین ڈاکٹرکبیرخان،ضلع غربی کے سابق فعال صدرعطاءاللہ ایڈوکیٹ،ضلع کورنگی کے سابق صدریوسی بلال کالونی سے پی ٹی آئی کے منتخب چیئرمین عبدالرحمن،گوہر خٹک،یوسی ماڈل کالونی سے منتخب چیئرمین وقاص نیازی،سندھ کے سابق نائب صدراورضلع ملیرکے سابق صدرعنایت خٹک،ضلع جنوبی سے عرفان اللہ نیازی،ضلع شرقی سے فرازفخری سمیت درجنوں سابق متحرک عہدیداراورکارکنان کو پارٹی کے نئے سیٹ اپ سے آﺅٹ کردیا گیاہے جس پرپارٹی کے نظریاتی اورفعال کارکنان شدید مشتعل ہے۔

ذرائع کے مطابق پارٹی کے ضلعی صدورکوبے دست وپا کرنے کیلئے پارٹی دستورسے بالاکراچی کے تمام اضلاع میں سرپرست اعلیٰ یا آرگنائزرمقرر کئے گئے ہیں جومتعلقہ ضلع میں پارٹی کے امورمیں مداخلت کرسکیں گے۔ذرائع کے مطابق صوبائی صدر ڈاکٹرعارف علوی اورکراچی کے صدرفردوس نقوی کی جانب سے ضلع غربی میں عمران اسماعیل،ضلع جنوبی میں خرم شیرزمان،ضلع کورنگی میںنجیب ہارون،ضلع ملیر میںحلیم عادل شیخ،ضلع شرقی میںفردوس نقوی اورڈسٹرکٹ سینٹرل میں علی زیدی سرپرست اعلیٰ یا آرگنائزرمقررکئے گئے ہیں، سرپرست اعلیٰ یا آرگنائزر کی اس غیردستوری تقرری سے بھی نظریاتی کارکن ناراض ہیں۔

ناراض کارکنان کے مطابق علی زیدی اور ان کے بعد فردوس نقوی کے کراچی کے صدربننے کے بعد پی ٹی آئی میں لسانیت اور فرقہ واریت کے اثرات بڑ ھ گئے ہیں جس سے عمران خان سے محبت کرنے والانظریاتی کارکن پریشان ہے،ذرائع کے مطابق کراچی میں سب سے فعال ضلع ملیر میں کچھ ہی عرصہ قبل پارٹی میں شامل ہونے والے حلیم عادل شیخ کی پارٹی میں بڑھتی ہوئی مداخلت سے بھی ضلع ملیرکے کارکنان مشتعل ہے اورپارٹی پر حلیم عادل شیخ کی مکمل اجارہ داری قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔

صوبائی صدر ڈاکٹرعارف علوی اورکراچی کے صدرفردوس نقوی کے مبینہ متعصبانہ فیصلوں کے خلاف پارٹی کے اندر مختلف پلیٹ فارمزپر آوازاٹھانے کے باوجودکوئی پیش رفت نہ ہونے کے بعد ناراض کارکنوں نے صوبائی صدر ڈاکٹرعارف علوی اورکراچی کے صدرفردوس نقوی کے خلاف 24 ستمبر اتوارکوانصاف ہاﺅس نرسری کے سامنے باقاعدہ احتجاجی جلسے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پارٹی کے اجلاسوں کے مواقع پربھی احتجاج کیا جائےگا۔

پی ٹی آئی کے ناراض کارکنان 24 ستمبرکے جلسے میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ذرائع کے مطابق ناراض کارکن 20ستمبرکو عمران خان کے کراچی کے مختصردورے کے موقع پران سے ملنے اور اپنے تحفظات سے انہیں آگاہ کرنے کیلئے صوبائی صدر ڈاکٹرعارف علوی کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے تھے مگر انہیں اندرجانے اور پارٹی چیئرمین سے ملنے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔نام نہ بتانے کی شرط پر پی ٹی آئی کے ایک سینئررہنما نے بتایا کہ یہ سارا گیم کراچی کی قومی وصوبائی اسمبلی کی چند نشستوں کیلئے کیا جارہا ہے تاکہ من پسندافرادکو من پسند حلقوں سے ٹکٹوں کا بروقت حصول یقینی بنایاجاسکے اوریقینی کا میابی کیلئے ایم کیو ایم سے مجوزہ انتخابی اتحاد میں کسی رکاوٹ یا اختلاف سے بچاجاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ضلع غربی میں بلدیاتی انتخابات کے موقع پرراتوں رات چھ جماعتی کراچی اتحاد سے پی ٹی ائی کی علیحدگی اور ایم کیو ایم سے خفیہ اتحادمیں بنیادی کرداراداکرنے والے سابق مرکزی ڈپٹی سیکرٹری عمران اسماعیل این اے239 سے ایم کیو ایم کی حمایت سے انتخاب لڑنے کیلئے مسلسل لابنگ میں لگے ہوئے ہیں جس کی پی ٹی ائی ضلع غربی کے اکثرسینئرعہدیداراورکارکنان مزاحمت اور مخالفت کررہے ہیں۔

پی ٹی ائی ضلع غربی کے سینئرعہدیداراورکارکنان نے پارٹی کو این اے239 سے سابق جنرل سیکرٹری سردارعبدالعزیزخان کوپارٹی ٹکٹ دینے کی تجویزدی جس کے بعدان کے ہم خیال عہدیداراورکارکن پارٹی تنظیم سے آﺅٹ کردیئے گئے۔

ذرائع کے مطابق اسی طرح کی صورتحال ڈاکٹرعارف علوی،خرم شیرزمان،فردوس نقوی ،علی زیدی اورحلیم عادل شیخ کو بھی اپنے اپنے اضلاع میں پیش آنے کے خدشے تھے اس لئے پیشگی طورپر مزاحمت کرنے والے کارکنان کو سائیڈلائن یا تنظیمی امورسے آﺅٹ کردیاگیا،متوقع عام انتخابات سے چند ماہ قبل پی ٹی آئی میں شدت اختیا کرتے ہوئے اندرونی اختلافات انتخابات میں پارٹی کیلئے نقصان کا باعث بننے کے خدشات پائے جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: