تحریک انصاف کی اتحادی جماعت نے کپتان کی مخالفت کردی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اتحادی جماعت اسلامی نے بھی ملک میں قبل از انتخابات کی مخالفت کردی۔

آئندہ عام انتخابات اور ملکی سیاسی صورتحال پر غور و فکر کے لیے جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت کا منصورہ میں اجلاس ہوا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے قبل از انتخابات کے پی ٹی آئی کے مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کو سیاسی شہید بننے کا موقع نہیں دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پانچ سالہ کارکردگی کی بنیاد پر میدان میں اترے گی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا، لیکن اگر انتخابات قبل از وقت ہوئے تو حکومت کو کارکردگی چھپانے کا بہانہ مل جائے گا۔

قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی قبل ازوقت انتخابات کے مطالبے کی مخالفت کی تھی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو پہلے بھی کہا تھا کہ پارلیمنٹ کو مدت پوری کرنے دی جائے، الیکشن 5 سال کے بعد ہونے چاہئیں تاکہ موجودہ وزیراعظم اپنا وقت پورا کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسے حالات نہیں چاہتے کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری نہ کر سکیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دورانملک میں قبل از انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت ملک کی سمت درست نہیں ہے اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے نیا مینڈیٹ لینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں نیا وزیر اعظم آنا چاہیے جس کی کوئی حیثیت ہو کیونکہ شاہد خاقان عباسی تو اب بھی کہتے ہیں کہ نواز شریف ہی میرے وزیر اعظم ہیں اور پھر سپریم کورٹ پر عدم اعتماد ظاہر کیا ہے۔

انتخابی اصلاحات بل پر کڑی تنقید

سراج الحق نے سینٹ سے منظور ہونے والے انتخابی اصلاحات بل کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نااہل شخص کو سیاسی جماعت کا سربراہ بنانا عدالتی فیصلوں پر شب خون مارنے اور ملک و انتخابی نظام کی تذلیل کے مترادف ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سینٹ نے ’انتخابی اصلاحاتی بل 2017‘ کی منظوری دی تھی، جس کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایک بار پھر صدر بننے کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔

حکومت نے محض ایک ووٹ کے فرق سے الیکشن بل کی شق 203 میں ترمیم مسترد کرانے میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کی پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: