پیٹرن لاک استعمال نہ کریں، صارفین کو ماہرین کا مشورہ

اگر آپ اینڈرائیڈ اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں تو کبھی بھی اسے اَن لاک کرنے کے لیے پیٹرن لاک کو استعمال نہ کریں کیونکہ یہ پاس کوڈ یا فنگر پرنٹ کے مقابلے میں زیادہ غیرمحفوظ ہوتا ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔

یو ایس نیول اکیڈمی اور میری لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دو میٹر دوری سے بھی کوئی شخص پیٹرن لاک کو دیکھ کر جان سکتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ کوئی بھی آسانی سے کسی فون کے پیٹرن کا اندازہ دور سے ہاتھوں کی حرکت سے کرسکتا ہے اور فون کو خود اَن لاک کرسکتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد کو ڈیوائسز اَن لاک کرنے کی ویڈیوز ایک سے دو بار دکھائی گئیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ رضاکاروں میں سے تین میں سے دو افراد نے ایک نظر دیکھ کر ہی پیٹرن لاک کو جان لیا اور ان کا بتایا گیا پیٹرن درست ثابت ہوا، حالانکہ وہ ڈیڑھ سے 2 میٹر دور سے یہ دیکھ رہے تھے۔

اس کے مقابلے میں پاس کوڈ زیادہ محفوظ ہیں جن کو دور سے دیکھ کر بھی جاننا اتنا آسان نہیں ہوتا، تاہم اس میں بھی دس میں سے ایک شخص درست اندازہ لگانے میں کامیاب رہا۔

محققین کا کہنا تھا کہ پیٹرن لاک یاد رکھنا بہت آسان ہوتا ہے اور اس کی جاسوسی کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔

اینڈرائیڈ صارفین سیٹنگز میں جاکر لاک اسکرین اور سیکیورٹی کے آپشن میں پاس کوڈ یا پاس ورڈ کا انتخاب کرسکتے ہیں جو کہ زیادہ محفوظ طریقہ کار ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: