متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی والدہ محترمہ عصمت صدیقی کو آہوں اور سسکیوں کے ساتھ یاسین آباد قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
مرحومہ کی نمازِ جنازہ مدنی مسجد، فیڈرل بی ایریا میں ادا کی گئی جبکہ تدفین یاسین آباد قبرستان میں ہوئی۔
نماز جنازہ میں ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، مسلم لیگ ن کے نہال ہاشمی، اسد عثمانی، استحکام پاکستان پارٹی کے عمران اسماعیل، محمود مولوی، پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر عاصم، جماعت اسلامی کے مسلم پرویز، فیضان مدینہ کے یعقوب عطاری، غلام محمود عطاری سمیت کراچی اور حیدر آباد کے مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ، وکلاء، صنعت کاروں، تاجروں، طلبہ تنظیموں، این جی اوز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی والدہ کے سوئم کی قرآن و فاتحہ خوانی 23 نومبر بروز جمعرات ظہر تا عصر مکان نمبر 301، بلاک 8، عزیز آباد، فیڈرل بی ایریا پر ہوگی۔
نماز جنازہ کی ادائیگی کی تصاویر کی پہلی صف میں خالد مقبول صدیقی، آزاد جمیل، نہال ہاشمی سمیت دیگر موجود تھے جبکہ خالد مقبول کے قریب رہنے والے مصطفی کمال اور انیس قائم خانی غائب تھے۔
اس تصویر کو دیکھ کر یہ افواہ پھیلی کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی شرکت کی وجہ سے مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی شریک نہیں ہوئے۔

اس حوالے سے مختلف قسم کی آرا اور متضاد دعوے بھی کیے گئے تاہم ذرائع کی ٹیم نے اس حقیقت سے پردہ عیاں کیا۔
حقیقت کیا ہے؟
مصطفیٰ کمال یاسین آباد قبرستان میں تدفین کے وقت بھی وہ موجود تھے جبکہ ایک قریبی شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ مصروفیات کی وجہ سے وہ تاخیر سے پہنچے تھے۔
مصطفیٰ کمال کو لحد میں اتارتے وقت بھی خالد مقبول صدیقی کے ساتھ قبر کے قریب کھڑے ہوئے تھے البتہ قبرستان میں انیس قائم خانی نظر نہیں آئے۔
واضح رہے کہ مصطفی کمال اور کامران ٹیسوری کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے، اس سے قبل مصطفی کمال ان کے پارٹی میں مداخلت کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کر کے ہیں۔
مصطفی کمال کے تحفظات کے بعد نہ صرف کامران ٹیسوری کی ایم کیو ایم سے قربتیں ختم ہوئیں بلکہ گورنر ہاؤس میں رابطہ کمیٹی کے ہونے والے اجلاس کا سلسلہ بھی رک گیا ہے۔
جنازہ میں مصطفی کمال اور کامران ٹیسوری موجود تھے البتہ مصطفی کمال تصاویر و جسمانی طور پر قبرستان میں نظر آئے اور مسجد میں نہیں دکھے جبکہ کامران ٹیسوری کی مسجد اور نماز جنازہ کی تصاویر تھیں اور وہ قبرستان میں نظر نہیں آئے۔
عین ممکن ہے یہ اتفاق ہو تاہم اسی وجہ سے یہ بات اجاگر ہوئی۔ اس ضمن میں ذرائع نے دونوں کے قریبی نمائندوں سے موقف لیا۔
تاہم دونوں کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔


