ٹوئٹ لائک کرنے پر خاتون کو سخت سزا

بیروت: سعودی عرب میں خواتین کو ڈارئیونگ کی اجازت دینے سے متعلق شاہی فرمان کے حوالے سے متنازع ٹوئیٹ کو لائیک کرنے پر لبنان کی طاقتور ترین خاتون میجر سوزان الحاج کو عہدے سے برطرف کردیا گیا۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق لبنان کے محکمہ انسداد سائبر کرائم اور تحفظ املاک دانش کی سربراہ میجر سوزان الحاج کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سعودی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت سے متعلق متنازع ٹوئیٹ کو لائیک کرنا مہنگا پڑ گیا اور انہیں اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا۔

لبنان کی انٹرنل سیکیورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عماد عثمان نے سوزان الحاج کی جگہ میجر البرٹ خورے کو عہدہ سونپ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوزان پرسعودی شاہی خاندان کے حوالے سے ہتک آمیز بیان کو لائیک کرنے کا الزام تھا اور اسی وجہ سے انہیں عہدے سے ہٹایا گیا۔

خود سوزان الحاج کا کہنا ہے کہ انہوں نے 29 ستمبر کو ٹوئٹر پر ڈائریکٹر شربل خلیل کی اس پوسٹ کو لائیک کیا تھا جس میں انہوں نے سعودی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے شاہی فرمان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ دیر بعد انہوں نے اس پوسٹ کو ان لائیک کردیا تھا تاہم اسی دوران ایک ٹوئٹر صارف زیاد ایثانی نے ان کا ٹوئیٹ دوبارہ شیئر کردیا اور پھر لوگوں نے ان پر تنقید شروع کردی۔

سوزان الحاج کا کہنا ہے کہ انہوں نے زیاد ایثانی کے خلاف تحقیقات کرنے کی درخواست کی ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے ان کی اور ان کے خاندان کے سعودی عرب سے مستحکم تعلقات کو نقصان پہنچا ہے۔

 بشکریہ ایکسپریس
اپنا تبصرہ بھیجیں: