Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
کراچی یونیورسٹی: طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کی اصل کہانی کیا ہے | زرائع نیوز

کراچی یونیورسٹی: طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کی اصل کہانی کیا ہے

جامعہ کراچی سے نسلیں پڑھ کر نکل گئیں اور پڑھ رہی ہیں لیکن یہ جو چند ماہ و سال سے اساتذہ پر جنسی ہراساں کرنے کے الزامات لگائے جارہے ہیں اس سے پہلے کم ازکم یہ ضرور جان لیں کہ یہ الزامات لگانے والے کون ہیں اور جن اساتذہ پرالزام لگ رہے ہیں وہ کس طبقہء فکرسے تعلق رکھتے ہیں۔
سال 2009 میں ہسٹری کے پروفیسر ناصر عباس پر اپنی اسٹوڈنٹ کو جنسی طور ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا کمیٹی بنی تحقیقات ہوئی اور الزام لگانے والی لڑکی الزام کو ثابت نہ کرسکی اور جامعہ کراچی میں ’’ کامریڈ سر‘‘ کی حیثیت سے مشہور ناصر عباس کلیئر ہوگئے لیکن وہ لڑکی زیادہ دن تک اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکی اور اپنی ہی سہیلیوں کے ہاتھوں مذاق بنواتے بنواتے جامعہ کراچی چھوڑ گئی۔
اسی طرح سال 2013 میں شعبہ میتھامیٹکس کے ٹیچر دانیال عادل کے خلاف ایک لڑکی نے جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایا کمیٹی قائم ہوئی اور یوں عقدہ کھلا اور جوان سال دانیال عادل بھی کلئیر قرار۔۔۔۔۔۔۔ ان دو واقعات کا ذکر اس وجہ سے کررہا ہوں کیونکہ میں خود ان واقعات کا گواہ ہوں۔۔۔۔ واقعات ان دو کے علاوہ بھی بہت ہیں۔۔۔۔۔۔۔
کچھ عرصہ قبل مشہورومعروف شاعر، نقاد، ادبی شخصیت جناب پروفیسر سحر انصاری پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا، کمیٹی بعد میں بنی لیکن ان کی تدریس پر پابندی کا اطلاق پہلے ہوا۔۔۔۔۔ کمیٹی بننے کے بعد بس یہ ہوا کہ ان پر جامعہ میں داخلے کی اضافی پابندی عائد کی گئی۔۔۔۔
گزشتہ روز لاہور کے چوراہوں پر کھڑے ہوکر نظروں سے خواتین کی عصمت دری کرنے والے رپورٹر نے جامعہ کراچی کے پروفیسر حسن عباس سے متعلق رپورٹ میں ان پر اپنی خاتون شاگرد کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔۔۔۔ میڈیا پر جو ثبوت پیش کئے گئے وہ ناکافی تھے اور فیبریکٹڈ تھے، مدعی نے جو وٹس ایپ کے اسکرین شاٹس دئیے ہیں ان سے یہ بھی کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ ان کا تعلق پروفیسر حسن عباس سے ہے۔۔۔۔ لیکن۔۔۔ جو ان تمام معاملات میںجو بات ثابت ہے وہ مشترکہ ہے۔۔۔۔۔
آیا ایسا کیوں ہے کہ جن اساتذہ پر الزام لگایا جارہا ہے وہ ایک ہی فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔ سب کے سب مارکسٹ، کامریڈ ہیں۔۔۔۔ اور جو الزام لگانے والے دودھ میں نہائی خواتین ہیں ان سب کا تعلق ایک ہی فکر سے ہے، ایک ہی گروہ سے ہے جسے حرف عام میں ’’ اسلامی جمعیت ِ طلبہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔۔۔۔ سوچیں ایسا کیوں۔۔۔ کیونکہ سوچنے کے پیسے نہیں لگتے۔۔۔

کراچی۔۔