Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
سپریم کورٹ کے جسٹس کے گھر پر نامعلوم افراد کی دو بار فائرنگ | زرائع نیوز

سپریم کورٹ کے جسٹس کے گھر پر نامعلوم افراد کی دو بار فائرنگ

لاہور : سپریم کور ٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا مقدمہ درج کر لیا گیا، پولیس نے تفتیش کیلئےانویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی۔

تفصیلات کے مطابق تھانہ ماڈل ٹاﺅن پولیس نے جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا مقدمہ کانسٹیبل آصف کی مدعیت میں درج کرلیا ہے، اس سلسلے میں تفتیش کیلئے انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف درج کیا گیا ہے،مقدمے میں دہشت گردی اور اقدام قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سلطان چوہدری تفتیشی ٹیم کےسربراہ مقرر کیے گئے ہیں جبکہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن غلام مبشر بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔

اس کے علاوہ ایس پی سی آئی اے ندیم عباس ، ایس پی انویسٹی گیشن آفیسر شاکر احمد تحقیقاتی ٹیم میں شامل ہیں۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ گزشتہ شب اور آج صبح پیش آیا تھا، رات کو کی گئی فائرنگ میں رہائش گاہ کے مرکزی دروازے کو نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ صبح کے وقت فائر کی گئی گولی باورچی خانے کی کھڑکی پر لگی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار اس موعاملے کی خود نگرانی کررہے ہیں انہوں نے آئی جی پنجاب کو بھی طلب کرلیا۔ اس حوالے سے سیکیورٹی ادارے تحقیقات بھی کر رہے ہیں۔

جسٹس اعجاز الحسن کون ہیں ؟؟

واضح رہے کہ جسٹس اعجاز الاحسن سپریم کورٹ میں کئی اہم کیسزکی سماعت کرنے والی بینچزکاحصہ ہیں، جسٹس اعجازالاحسن پاناما کیس کے نگران جج بھی ہیں، نیب عدالت میں نوازشریف اورمریم نواز کا مقدمہ چل رہا ہے، نیب عدالت ہرپندرہ دن بعد انہیں اپنی رپورٹ پیش کرتی ہے۔

ان ہی میں خواجہ سعد رفیق سے ریلوے کے حسابات طلب کرنے والی بینچ بھی شامل ہے، جسٹس اعجازالاحسن پاناما کیس اور نظرثانی کی سماعت کرنے والی بینچ میں بھی شامل رہے، جسٹس اعجازالحسن نااہلی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی بینچ کا بھی حصہ رہے ہیں۔