کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے گریڈ 1 سے 15 تک کے 1500 ملازمین کو مستقل نہ کرنے کیخلاف درخواست پرڈائریکٹرکو سیکریٹری کے پاس جاکرمسئلہ حل کرنیکا حکم دیدیا۔
ہفتے کو سماعت کے موقع پرمختلف محکموں میں تعینات کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل نہ کرنے پرعدالت نے سندھ حکومت پر برہمی کا اظہارکیا،جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ سندھ حکومت کیا کررہی ہے کچھ لوگوں کو کنٹریکٹ پرسرکاری ملازمت دیتے ہیں اورکچھ کو مستقل کردیتے ہیں،ڈائریکٹرکرکیولیم نے بتایا کہ سابق ڈائریکٹر نے غلط بھرتیاں کی تھیں،جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے کہا کہ وہ ڈائریکٹرتو اب اے سی والے کمرے میں آرام کررہا ہوگا،بیچارے غریب ملازم رل رہے ہیں یہ انصاف نہیں ہے اورہم آپکو ناانصافی کرنے بھی نہیں دیں گے،یہاں لوگ بیروزگاری کی وجہ سے خودکشیاں کررہے ہیں،سرکاری افسران اپنے رشتے داروں کو فیوردیتے ہیں اور غریب کے بچوں کیساتھ امتیازی سلوک کررہے ہیں ہرعمل کا ردعمل ہوتا ہے،لوگوں کی زندگیوں کیساتھ نہ کھیلیں ہمیں بتائیں ان کو ریگولرکیوں نہیں کیا جارہا جو ریگولرملازمین رکھ رہے ہیں کیا وہ آسمان سے پریاں لیکرآئیں گے یا تو سب کیلئے ایک پالیسی رکھیں کہ ہم صرف کنٹریکٹ پربھرتیاں کریں گے انکو 3 سال کنٹریکٹ پر رکھا،عمربڑھ گئی ان کی اب یہ نہ یہاں کے رہے نہ وہاں کے۔
عدالت نے ڈائریکٹرکو ہدایت کی کہ سیکریٹری کے پاس جاکربیٹھیں اورانکا مسئلہ حل کریں اورکہا کہ اگرانکا معاملہ حل نہیں کررہے تو ہم حکمنامہ جاری کریں گے،پھرسب کیلئے مسئلہ ہوجائیگا،عدالت نے درخواست کی سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔
