Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
جیو کی نشریات بحال، کس نے پابندی لگائی اور کس نے اجازت دی؟ اہم دعویٰ | زرائع نیوز

جیو کی نشریات بحال، کس نے پابندی لگائی اور کس نے اجازت دی؟ اہم دعویٰ

اسلام آباد / کراچی: برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک فوج کے ساتھ سیاسی کوریج کے حوالے سے معاملات طے پانے کے بعد بڑے کیبل آپریٹرز کو جیو ٹی وی کی نشریات بحال کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

روئٹرز نے جیو ٹی وی کی 2 انتہائی اہم شخصیات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ مارچ کے آخر میں جیو ٹی وی کی نشریات ملک بھر میں بندکردی گئی تھیں جس کے بعد پاک فوج کی جانب سے انتظامیہ پر دباﺅ ڈالا گیا کہ وہ نااہل وزیر اعظم نواز نواز شریف کے حق میں رپورٹنگ نہ کرے اور سپریم کورٹ اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہ بولے۔

جنگ اخبار کے 2 ملازمین کا کہنا ہے کہ جنگ جیو گروپ نے پاک فوج کی اکثر شرائط قبول کرلی ہیں لیکن معاہدہ ابھی فائنل نہیں ہوا اور معاملہ گومگوں کا شکار ہے۔” جہاں تک سخت شرائط کی بات ہے تو ہم ان پر عمل کر رہے ہیں جس کی وجہ سے جیو کی نشریات کھلنا شروع ہوگئی ہیں اور نشریات کا کھلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم تمام احکامات کی بجا آوری کر رہے ہیں“۔

جیو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جیو ہمیشہ ہی آزاد ایڈیٹوریل پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے اور آئندہ بھی یہ تصویر کے دونوں رخ دکھاتا رہے گا، اسی جرم کی پاداش میں گروپ پہلی حکومتوں میں بھی زیر عتاب آچکا ہے، جس دن ہمیں اپنی غیر جانبداری پر سمجھوتہ کرنا پڑا اسی دن ہم خود ہی چینل بند کردیں گے۔

گزشتہ ہفتے ہی جیو کے ایڈیٹوریل بورڈ کی جانب سے ملازمین کیلئے ایک ہدایت نامہ بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ایسی کوئی خبر نشر نہ ہونے دیں جس میں اسٹیبلشمنٹ کا منفی امیج اجاگر ہوتا ہو یا سپریم کورٹ کی تضحیک کی گئی ہو۔