اسلام آباد: تحریک انصاف کی قیادت نے عامر لیاقت حسین کو انتخابی ٹکٹ جاری نہیں کیا، پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی رہنماؤں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ 13 جون تک ہوجائے گا۔
تحریک انصاف کی جانب سے انتخابات 2018 کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم میں کئی اہم امیدوار نظر انداز کردیے گئے جب کہ کئی کو ٹکٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ مشروط کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مردان سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار علی محمد خان اور کوہاٹ سے شہریار آفریدی کی 5 سالہ کارکردگی سے پارٹی قیادت مطمئن کو مطمئن نہ کرسکے جبکہ دونوں رہنماؤں پر کارکنان بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔
دوسری جانب سیالکوٹ سے امیدوار فردوس عاشق اعوان کے حلقے میں ان کے ساتھ ایم پی اے کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔
ذرائع کے مطابق فردوس عاشق جسے ایم پی اے لانا چاہتی ہیں پارٹی قیادت اُن سے مطمئن نہیں اس لیے ایم پی اے کا فیصلہ ہونے کے بعد فردوس عاشق اعوان کو ٹکٹ جاری کرنے سے متعلق فیصلہ ہوگا۔
کراچی سے پی ٹی آئی کے امیدوار عامر لیاقت حسین کو بھی ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا، جنہیں ٹکٹ جاری کرنے سے متعلق فیصلہ 13 جون کو پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں ہوگا۔
سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کے ترجمان شوکت یوسفزئی بھی صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ سے محروم رہے جب کہ کراچی سے فیصل واؤڈا کا نام بھی سامنے نہ آ سکا۔
پشاور سے تحریک انصاف کے رہنما ارباب نجیب اللہ نے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ ان کے حامیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی انتخابی مہم خود شروع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف نے انہیں قومی اسمبلی کے حقلے کا ٹکٹ جاری کردیا۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
