Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کیا احسان اللہ احسان کو حکومت رہائی دے رہی ہے؟‌ اہم حکم سامنے آگیا | زرائع نیوز

کیا احسان اللہ احسان کو حکومت رہائی دے رہی ہے؟‌ اہم حکم سامنے آگیا

پشاور ہائی کورٹ نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور جماعت الاحرار کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کو تحویل میں رکھنے اور ٹرائل جلد مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پشاور میں 2014 میں جاں بحق ہونے والے بچوں میں سے ایک بچے کے والد فضل خان ایڈووکیٹ نے احسان اللہ احسان کی بریت روکنے کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی جسے عدالتِ عالیہ نے نمٹا دیا۔

احسان اللہ احسان کی بریت کے خلاف دائر درخواست پر جسٹس قیصر رشید اور جسٹس اکرام اللہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے احسان اللہ احسان کو تحویل میں رکھنے کا حکم دیتے ہوئے ان کا ٹرائل جلد شروع کرنے کا بھی حکم دیا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ احسان اللہ احسان نے اے پی ایس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، تو اس صورت میں والدین اسے معاف کرسکتے ہیں لیکن حکومت اسے معاف نہیں کرسکتی۔

یاد رہے کہ سانحہ اے پی ایس میں جاں بحق ہونے والے بچے کے والد نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق ترجمان ٹی ٹی پی نے اے پی ایس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

فضل خان ایڈووکیٹ نے انکشاف کیا تھا کہ حکومت ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان کو مبینہ طور پر رہائی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس نے خود کو مبینہ طور پر سیکیورٹی ایجنسی کے حوالے کیا تھا اور وہ اس وقت سیکیورٹی اداروں کی ہی تحویل میں ہیں۔

درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ احسان اللہ احسان کو بچوں کو قتل کرنے اور ظلم ڈھانے پر انہیں معافی نہ دی جائے۔

اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل مست اللہ خان نے عدالت کو بتایا کہ احسان اللہ احسان کے خلاف انکوائری چل رہی ہے اور انہیں رہا کرنے کا بھی کوئی امکان نہیں۔

بشکریہ ڈان نیوز


خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔